پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر سے مارچ شروع کرنے کے منصوبے کی ایک بار پھر تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی مہم جاری رکھے گی۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں سہیل آفریدی نے کہا کہ مارچ کا آغاز لکی مروت کے گنڈی چوک سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئین شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور پی ٹی آئی اپنے مطالبات پورے ہونے تک اپنی مہم جاری رکھے گی۔
سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی جانب سے مقامی آبادی کی نقل مکانی کا سبب بننے والے فوجی آپریشنز کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہری ہلاکتیں اور ڈرون حملے عدم استحکام میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے مطابق سکیورٹی پالیسی سے متعلق تحفظات صوبے کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور ان معاملات پر صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بھی بات کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر بھی سوال اٹھایا اور صوبائی پولیس کو فراہم کیے جانے والے وسائل سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔
9 مئی 2023 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایسے واقعات کو دوبارہ نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے ان واقعات سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کے بارے میں بھی الزامات عائد کیے۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مذاکرات کے نتائج سامنے آئیں اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی مخالفین اور حکومتی رہنماؤں سے متعلق سہیل آفریدی کی زبان پر بھی تنقید کی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن سیاسی اختلافات پر مذاکرات کر رہی ہیں اور پی ٹی آئی کا مجوزہ مارچ بھی زیر بحث معاملات میں شامل ہے۔





