لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ازدواجی تعلق کے دوران رضامندی کے بغیر جنسی عمل کو الگ جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی ہدایات جاری کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کو کوئی مخصوص قانون بنانے یا نیا جرم متعین کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔
جسٹس عبہر گل خان نے ایڈووکیٹ اریج سہیل بھٹہ کی جانب سے مفادِ عامہ میں دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 375 اور 376 میں ترامیم کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی تھی تاکہ ازدواجی تعلق میں جنسی تشدد کے خلاف ایک واضح قانونی نظام تشکیل دیا جا سکے۔
عدالت نے واضح کیا کہ درخواست مسترد کرنے کا مطلب ازدواجی زندگی میں تشدد، جبر یا بدسلوکی کی حمایت نہیں۔ شادی کے بعد بھی عورت کا وقار، جسمانی تحفظ اور بنیادی آئینی حقوق برقرار رہتے ہیں۔
قانون سازی عدلیہ نہیں، پارلیمان کا اختیار ہے
فیصلے میں جسٹس عبہر گل خان نے قرار دیا کہ آئین ریاست کے تینوں ستونوں، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ، کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کرتا ہے۔
عدالت کے مطابق آئین کا آرٹیکل 199 ہائیکورٹ کو بنیادی حقوق کے تحفظ اور قانونی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے، تاہم اس اختیار کے تحت عدالت قانون ساز اداروں کی ذمہ داریاں خود نہیں سنبھال سکتی۔
جسٹس عبہر گل خان نے واضح کیا کہ کسی سرکاری ادارے کو پہلے سے موجود قانونی ذمہ داری پوری کرنے کا حکم دینا اور پارلیمان کو نیا قانون بنانے کی ہدایت دینا دو الگ معاملات ہیں۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 142(ب) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری قوانین، عدالتی طریقہ کار اور شہادت سے متعلق قانون سازی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
فیصلے کے مطابق کسی نئے جرم کی تعریف، اس کے لیے شواہد کے تقاضے، قانونی تحفظات اور عدالتی طریقہ کار وضع کرنا ایسے امور ہیں جن پر متعلقہ قانون ساز اداروں کو جامع غور کرنا چاہیے۔
درخواست گزار کا ازدواجی جنسی تشدد سے متعلق مؤقف
درخواست گزار اریج سہیل بھٹہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان میں موجودہ قانونی نظام ازدواجی تعلق کے دوران رضامندی کے بغیر جنسی عمل سے متعلق مسائل کو الگ اور واضح انداز میں حل نہیں کرتا۔
ان کے مطابق بطور وکیل انہیں ایسی خواتین کے معاملات دیکھنے کا موقع ملا جنہوں نے اپنی ازدواجی زندگی میں رضامندی کے بغیر جنسی عمل کی شکایات کیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خواتین کے وقار، مساوات اور جسمانی تحفظ سے متعلق آئینی ضمانتوں کی روشنی میں قانون سازی ضروری ہے۔
تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار نے کسی مخصوص قانونی شق کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا نہیں کی اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کی جانب سے پہلے سے موجود قانونی ذمہ داری پوری نہ کرنے کی نشاندہی کی۔
جسٹس عبہر گل خان نے یہ بھی واضح کیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 375 کے موجودہ متن میں صرف شادی کی بنیاد پر شوہر کو ریپ کے جرم سے صراحتاً مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔
شادی خواتین کے آئینی حقوق ختم نہیں کرتی
عدالت نے آئین کے آرٹیکلز 9، 14 اور 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کو جان و جسمانی تحفظ، انسانی وقار اور مساوات کے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 35 ریاست کو شادی اور خاندان کے تحفظ کی ذمہ داری دیتا ہے، لیکن اس شق کو شریکِ حیات کے خلاف تشدد یا جبر کی اجازت نہیں سمجھا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق دوسرے ممالک کے قوانین سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے، تاہم پاکستان میں کسی نئے قانونی نظام کی تشکیل کے لیے آئین، موجودہ قوانین اور اسلامی احکامات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے درخواست میں مانگی گئی قانون سازی کی ہدایات جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ متعلقہ قانون ساز اداروں کے اختیار میں قرار دیا۔
اس فیصلے کے بعد بھی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں ازدواجی جنسی تشدد سے متعلق مزید قانون سازی یا موجودہ قانونی تحفظات کو بہتر بنانے پر غور کر سکتی ہیں۔
عدالت کا فیصلہ ازدواجی جنسی تشدد کو قانونی جواز فراہم نہیں کرتا بلکہ قانون سازی کے حوالے سے عدلیہ کے آئینی اختیارات کی حدود واضح کرتا ہے۔




