لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے، کیونکہ بعض محکمے اور ادارے حکومتی کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔
جمعے کو لاہور میں کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اصلاحات کے لیے کاروباری برادری سے تعاون مانگا۔
نقوی نے کہا کہ وفاقی اداروں سے متعلق شکایات حکومت کو ملتی رہتی ہیں اور جہاں ممکن ہو، مسائل درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق بعض محکمے اور ادارے کارکردگی بہتر بنانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے متعلقہ اداروں کی نشاندہی یا مزید تفصیل بیان نہیں کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور کاروباری برادری کی حمایت کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہوگا۔
ان کے یہ ریمارکس جولائی میں پاکستان اکنامک سمٹ کے دوران پیش کیے گئے مؤقف کا تسلسل ہیں۔ اس سے پہلے نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ان کی تجویز بھی سیاسی بحث کا باعث بنی تھی۔
ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ نقوی نے برآمدات بڑھانے اور مقامی پیداوار کے ذریعے درآمدات پر انحصار کم کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے ایران کے حالیہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ جانے والے وفود طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرنے والے ملک میں ترقی کی صورت حال دیکھ کر حیران ہوئے۔
نقوی کے مطابق ایران کے بارے میں تباہی کے عمومی تاثر کے برعکس وہاں صنعتی ترقی نظر آتی ہے۔ انہوں نے بالخصوص ایرانی گاڑیوں کی صنعت اور مقامی سطح پر پیداوار کی صلاحیت کا ذکر کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے لیے برآمدات کی بنیاد پر معاشی ترقی ضروری ہے، لیکن ساتھ ہی مقامی صنعت کو وسعت دے کر درآمدات کم کرنا بھی اہم ہے۔
انہوں نے کاروباری برادری سے دونوں مقاصد کے لیے تجاویز طلب کیں اور کہا کہ پاکستان پابندیوں کے باوجود صنعتی صلاحیت بڑھانے کے ایرانی تجربے سے سیکھ سکتا ہے۔
نقوی نے ادارہ جاتی تبدیلی یا صنعتی اصلاحات کے لیے کوئی مخصوص منصوبہ یا مدت بیان نہیں کی۔





