بینکاک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے جمعرات کو کہا کہ جنگ کے باعث خلیجی معیشتوں کی بحالی میں وقت لگے گا اور درمیانی مدت میں ان کی شرح نمو جنگ سے پہلے کی متوقع رفتار پر واپس نہیں آسکے گی۔
آئی ایم ایف کے علاقائی ڈائریکٹر جہاد ازعور نے کہا کہ مختلف شعبوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان دیرپا معاشی اثرات چھوڑے گا۔ حکومتوں کو مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اضافی اخراجات بھی کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی۔
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی قیادت میں اتحاد اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت سے توانائی کی رسد اور سمندری ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کی منگل کو جاری کردہ پیش گوئی کے مطابق مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی مجموعی معیشت رواں سال 0.3 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔
سعودی عرب کی معیشت میں 3.3 فیصد کمی متوقع ہے، جس کے باعث وہ جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی معیشتوں میں شامل ہے۔ یہ پیش گوئی مملکت میں غیر معمولی معاشی سکڑاؤ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں توانائی کی برآمدات ماضی میں اہم معاشی سہارا رہی ہیں۔
ایران سے شروع ہوکر سعودی عرب اور یمن تک پھیلنے والی جنگ نے توانائی کی سمندری ترسیل متاثر کی ہے، جبکہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بلند ہیں۔
حالیہ لڑائی میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر مہلک میزائل حملے بھی ہوئے ہیں۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بدھ کو کہا کہ سعودی عرب پر جاری حملوں کے اثرات دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
بینکاک اجلاسوں میں جنگ کے معاشی اثرات، توانائی کی بلند قیمتیں اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے تسلسل سے متعلق خدشات اہم موضوعات ہیں۔





