بینکاک: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کا پورا بوجھ سبسڈی کے بغیر صارفین پر منتقل ہونے کی صورت میں رواں سال تقریباً 13 کروڑ افراد غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔
یو این ڈی پی کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا کہ مسلسل بحرانوں کے باعث کمزور معیشتوں کے پاس بحالی کے لیے وقت اور وسائل محدود ہوگئے ہیں۔ قرضوں کی بڑھتی لاگت اور موسمیاتی خطرات ایران کے خلاف امریکی جنگ کے معاشی اثرات مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک نے توانائی کی مہنگائی سے عوام کو بچانے کے لیے وسیع پیمانے پر سبسڈی دی، لیکن پے در پے بحرانوں نے یہ امداد جاری رکھنے کی گنجائش گھٹا دی ہے۔
فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی سطح پر ایندھن مہنگا ہوا ہے۔ خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف ایرانی جوابی کارروائیوں سے تیل اور قدرتی گیس کی رسد متاثر ہوئی ہے۔
یو این ڈی پی کے مطابق جنوبی اور مشرقی ایشیا اور افریقہ کے صحارا کے جنوب میں واقع ممالک کے عوام کو بڑھتی قیمتوں سے خاص طور پر خطرہ ہے۔
ادارے نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں حکومتی آمدن سے سود کی ادائیگی کا درمیانی تناسب تقریباً 9.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو 25 برس کی بلند ترین سطح اور زیادہ آمدن والے ممالک کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زائد ہے۔
ڈی کرو نے ترقی یافتہ معیشتوں اور عالمی مالیاتی اداروں سے معاشی نمو، روزگار اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امداد میں حالیہ کٹوتیوں نے بھی مشکلات بڑھائی ہیں۔
یو این ڈی پی نے شدید ایل نینو کے باعث سیلاب، خشک سالی اور دیگر شدید موسمی واقعات سے مزید معاشی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جن کے اثرات 2027 کے اوائل میں عروج پر پہنچنے کی توقع ہے۔





