بیجنگ: چین کے تبت خودمختار علاقے میں 7.0 شدت کے زلزلے سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ امدادی ٹیمیں جمعہ کو دورافتادہ آبادیوں میں متاثرین کی تلاش اور محفوظ مقامات پر منتقلی میں مصروف رہیں۔
رائٹرز نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ کر 76 ہوگئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق 12000 سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
زلزلہ جمعرات، 22 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ پر ناگچو کی باچن کاؤنٹی میں آیا۔ چین سرکاری طور پر اس خطے کو شیزانگ کہتا ہے۔
چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ متاثرہ علاقے کی اوسط بلندی تقریباً 4800 میٹر ہے، جہاں رسائی اور ہنگامی رہائش امدادی کارروائیوں کے اہم تقاضے ہیں۔
ناگچو کے زلزلہ امدادی ہیڈکوارٹر کے حوالے سے جاری ابتدائی جائزے کے مطابق 339 گھرانوں کے مکانات منہدم ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ مویشیوں کے 20 باڑے بھی متاثر ہوئے۔ حکام کے مطابق نقصان کی تفصیلات کی تصدیق جاری تھی۔
سڑکوں کو نقصان، سردی سے مشکلات
بعض متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی رابطے منقطع ہوئے، جبکہ ریلوے سروس معطل کی گئی۔ چٹانیں گرنے سے قومی شاہراہ 317 کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا۔
متاثرین کے لیے خیمے، عارضی تیار شدہ رہائش گاہیں، بستر اور گرم کپڑے روانہ کیے گئے۔ وقفے وقفے سے برف باری کی پیش گوئی کے باعث بے گھر خاندانوں کو پناہ فراہم کرنے اور الگ تھلگ آبادیوں تک پہنچنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
چین نے زلزلے سے متعلق قومی ہنگامی ردعمل کا درجہ چار سے بڑھا کر تین کردیا۔ چائنا نیوز سروس کے مطابق وزارت ہنگامی انتظام نے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے بغیر پائلٹ طیارہ بھی تعینات کیا۔
فضائی جائزے سے ان علاقوں کی صورت حال سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے جہاں زمینی راستوں سے پہنچنا مشکل ہو۔
ابتدائی زلزلے کے بعد بھی خطرہ برقرار ہے۔ حکام نے سیکڑوں آفٹرشاکس ریکارڈ ہونے کی اطلاع دی، جو پہلے سے متاثرہ عمارتوں کو مزید کمزور کرسکتے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مسئلہ محفوظ رہائش اور ضروری سامان تک رسائی ہے، جبکہ امدادی اداروں کو راستوں اور بنیادی خدمات کی بحالی کے ساتھ تلاش کا کام بھی جاری رکھنا ہے۔





