پشاور: خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے مزید 120 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4 ہزار 219 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار صوبائی محکمہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ میں جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق صوبے بھر میں اس وقت ڈینگی کے 163 فعال کیسز ہیں، جبکہ 4 ہزار 55 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی اور صوبے میں اب تک اس وائرس سے ایک موت کی تصدیق ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈینگی سے متاثر ہونے والے تقریباً 96 فیصد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، تاہم صوبے کے مختلف اضلاع میں نئے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ضلع کوہاٹ ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع ہے، جہاں رپورٹنگ کی مدت کے آغاز سے اب تک 2 ہزار 659 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ضلعے میں اس وقت 92 فعال کیسز موجود ہیں، جو خیبر پختونخوا کے مجموعی فعال کیسز کے نصف سے زیادہ ہیں۔
پشاور میں ڈینگی کے مجموعی کیسز کی تعداد 573 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 216 کیسز اکتوبر کے دوران رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں ماہ بھی صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی کے نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔
دیگر اضلاع میں بنوں میں ڈینگی کے 33 جبکہ ہنگو میں 10 فعال کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
کوہاٹ، بنوں اور ہنگو میں مجموعی طور پر 135 فعال کیسز موجود ہیں، جو صوبے کے 163 فعال مریضوں کا بڑا حصہ بنتے ہیں۔
ضلعی اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اب تک رپورٹ ہونے والے ڈینگی کے تقریباً 63 فیصد مصدقہ کیسز کا تعلق صرف ضلع کوہاٹ سے ہے۔
محکمہ صحت نے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں پہلے رپورٹ ہونے والی دو اموات کو ڈینگی سے ہونے والی ہلاکتوں کے سرکاری ریکارڈ سے خارج کر دیا ہے۔
محکمے کے مطابق ان مریضوں میں لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ڈینگی وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی، جس کے باعث ان اموات کو ڈینگی سے منسوب نہیں کیا گیا۔
اس نظرثانی کے بعد صوبے میں ڈینگی سے ہونے والی مصدقہ اموات کی تعداد ایک برقرار ہے۔
بیماریوں کی نگرانی کے نظام میں مشتبہ اور لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز کے درمیان فرق اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ڈینگی کی علامات بعض دوسری بیماریوں سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔
لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ مریض ڈینگی وائرس سے متاثر تھا یا نہیں، تاہم یہ تعین کرنے کے لیے کہ موت کی وجہ ڈینگی ہی تھا، مزید طبی جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
موسمی حالات اور ڈینگی کا پھیلاؤ
ڈینگی ایک وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر وائرس سے متاثرہ ایڈیز ایجپٹائی (Aedes aegypti) مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔
یہ مچھر عموماً ایسی جگہوں پر افزائش پاتے ہیں جہاں پانی جمع رہتا ہے، جن میں گھروں میں پانی ذخیرہ کرنے والے برتن، پرانے ٹائر، کھلی پانی کی ٹینکیاں اور دیگر مقامات شامل ہیں۔
پاکستان میں مون سون کے دوران اور اس کے بعد ڈینگی کے پھیلاؤ میں اکثر اضافہ دیکھا جاتا ہے، کیونکہ بارشوں، کھڑے پانی اور موزوں درجہ حرارت کے باعث مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار حالات پیدا ہوتے ہیں۔
جن علاقوں میں درجہ حرارت موزوں رہتا ہے، وہاں اکتوبر اور نومبر کے دوران بھی ڈینگی کی منتقلی جاری رہ سکتی ہے۔
کوہاٹ میں کیسز کی زیادہ تعداد اور پشاور میں مسلسل نئے مریضوں کی نشاندہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ڈینگی کے پھیلاؤ کی صورتحال یکساں نہیں ہے۔
تاہم دستیاب اعداد و شمار سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی آ رہی ہے، کیونکہ اس حوالے سے ہفتہ وار تقابلی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔
ڈینگی کی نگرانی اور صحتِ عامہ کے اقدامات
ڈینگی کی نگرانی کا نظام ہسپتالوں، تشخیصی لیبارٹریوں اور ضلعی محکمہ صحت کی جانب سے مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی رپورٹنگ پر انحصار کرتا ہے۔
محکمہ صحت ان اعداد و شمار کی مدد سے بیماری کے پھیلاؤ کا جائزہ لیتا ہے، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کن مقامات پر مچھروں کی افزائش روکنے اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
ڈینگی سے بچاؤ کے عمومی اقدامات میں کھڑے پانی کا خاتمہ، پانی ذخیرہ کرنے والے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنا اور مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد میں معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں یا بعض اوقات کوئی علامات سامنے نہیں آتیں، تاہم کچھ مریضوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جن کے لیے ہسپتال میں علاج ضروری ہوتا ہے۔
ڈینگی کی خطرے کی علامات میں پیٹ میں شدید درد، مسلسل قے، خون بہنا یا غیر معمولی کمزوری شامل ہو سکتی ہیں، خصوصاً اس وقت جب بخار کم ہونا شروع ہو جائے۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کی تازہ رپورٹ میں ہسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد، فعال کیسز کی شدت یا ضلعی سطح پر مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے جاری کارروائیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
صوبے کے متعدد اضلاع میں ڈینگی کے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ محکمہ صحت کے اعداد و شمار سے مختلف علاقوں میں بیماری کے پھیلاؤ اور ڈینگی کے باقی ماندہ سیزن کے دوران صورتحال میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔
محکمہ صحت کی آئندہ رپورٹس سے واضح ہوگا کہ نئے کیسز میں کمی آ رہی ہے یا نہیں اور متاثرہ اضلاع میں فعال مریضوں کی تعداد کس طرح تبدیل ہو رہی ہے۔





