تھمپو: شمالی بھوٹان میں شنتافو گلیشیائی جھیل سے اچانک پانی خارج ہونے کے باعث آنے والے سیلاب نے گاسا تشاچو کے قدرتی گرم چشموں کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ رائٹرز نے جمعے کو مقامی میڈیا کے حوالے سے یہ خبر دی۔
سیلابی پانی پہنچنے سے پہلے علاقے کو خالی کرالیا گیا تھا اور کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
بھوٹان کے سرکاری نشریاتی ادارے بی بی ایس کے مطابق اندھیرے اور پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ابتدائی طور پر نقصان کا مکمل جائزہ نہیں لیا جاسکا۔ پہلے سے تیار حصوں کو جوڑ کر بنائے جانے والے دو بیلی پل بہہ جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔
قومی اخبار کوئنسل نے بتایا کہ لایا کی جانب جانے والی سڑک کا کچھ حصہ بہہ گیا، جس کے بعد راستہ بند کردیا گیا۔
گاسا ضلع میں یہ واقعہ جمعرات کی شام پیش آیا۔ جھیل اور زیریں علاقوں کی صورتحال کا جائزہ جاری تھا، جبکہ پانی کے اخراج کی درست وجہ اور مقدار کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
ممکنہ زیریں اثرات کے پیش نظر پڑوسی ملک بھارت کی ریاستوں آسام اور مغربی بنگال میں بھی سیلابی الرٹ جاری کیے گئے۔
گلیشیائی جھیل سے سیلاب کیسے آتا ہے؟
گلیشیئر کے قریب برف پگھلنے سے پانی جمع ہوکر جھیل بنا سکتا ہے۔ اگر پانی روکنے والی برف یا قدرتی رکاوٹ ٹوٹ جائے، یا پانی اس کے اوپر سے بہنے لگے، تو بڑی مقدار میں پانی اچانک خارج ہوسکتا ہے۔
اسے گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والا سیلاب، یا گلوف، کہتے ہیں۔ تیز رفتار ریلا پتھر، کیچڑ اور ملبہ ساتھ لے کر پہاڑی وادیوں سے گزرتا ہے، جس سے آبادیوں، سڑکوں اور پلوں کو خطرہ ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کو بھی ایسے خطرات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو این ڈی پی، کے مطابق بڑھتا درجۂ حرارت اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیائی سیلاب کے خطرات بڑھا رہا ہے۔
پاکستان کے گلوف ٹو منصوبے میں خطرے سے دوچار وادیوں کے لیے پیشگی اطلاع کے نظام، حفاظتی تعمیرات اور مقامی آبادیوں کی تیاری پر کام کیا گیا ہے۔
بڑھتا درجۂ حرارت ایسے خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے، تاہم بھوٹان کے اس واقعے کی فوری وجہ ابھی متعین نہیں ہوئی۔





