مونٹریال: کینیڈا اور یورپی یونین نے جمعہ، 30 اکتوبر کو ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا، جس کا مقصد امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے دوران معاشی تحفظ، دفاعی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔
کینیڈا، یورپی یونین الائنس فار دی فیوچر کے نام سے اس اتحاد کا اعلان مونٹریال میں ہونے والے 21ویں یورپی یونین، کینیڈا سربراہی اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے شرکت کی۔
اس اتحاد کا مقصد کینیڈا اور یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، جبکہ مستقبل میں اس میں یکساں سوچ رکھنے والے دیگر ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
یوکرین کے لیے کینیڈا کی 50 کروڑ یورو کی مالی معاونت
سربراہی اجلاس کے اہم اعلانات میں یوکرین کے لیے یورپی یونین کے 90 ارب یورو کے مالی معاونتی قرضے میں کینیڈا کی شرکت بھی شامل ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی نے تصدیق کی کہ کینیڈا ابتدائی طور پر اس منصوبے میں 50 کروڑ یورو فراہم کرے گا، جس کا مقصد یوکرین کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد دینا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران یورپی حکومتیں یوکرین کے لیے مزید بین الاقوامی مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اہم معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ
کینیڈا اور یورپی یونین نے جدید صنعتوں، صاف توانائی کی ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی سپلائی چین مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ، ریفائننگ، مصنوعات کی تیاری اور ری سائیکلنگ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
دونوں فریق معدنیات کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے تاکہ مستقبل میں سپلائی متاثر ہونے کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک اور کینیڈا نے ایک ایسے معاہدے پر مذاکرات مکمل کر لیے ہیں جس کا مقصد کینیڈا کے اہم قدرتی وسائل میں یورپی سرمایہ کاری کو آسان بنانا ہے۔
توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا، جس میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ممکنہ تجارت شامل ہے، تاہم یہ اقدامات دونوں فریقوں کے موجودہ ماحولیاتی وعدوں سے مشروط ہوں گے۔
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تجارت کو ترجیح
کینیڈا اور یورپی یونین نے ڈیجیٹل تجارت کے ایک معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد تجارتی رکاوٹیں کم کرنا اور سرحد پار ڈیٹا کی منتقلی کو آسان بنانا ہے۔
دونوں فریقوں نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور جدید کمپیوٹنگ کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
معاہدے کے تحت کینیڈا کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے یورپ کے سپر کمپیوٹنگ نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوگی۔
وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی کوہیئر (Cohere) اور جرمنی کی ایلف الفا (Aleph Alpha) کے مجوزہ انضمام کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کی مثال قرار دیا۔
توقع ہے کہ انضمام کے بعد بننے والی کمپنی کے مرکزی دفاتر ٹورنٹو اور برلن میں برقرار رہیں گے۔
دونوں فریق یورپی یونین کے ایراسمس پلس (Erasmus+) پروگرام کے ذریعے تعلیمی تعاون کو بھی فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ بدلتے تعلقات کے تناظر میں نیا اتحاد
یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی اور سفارتی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔
کینیڈا اور یورپی ممالک کو امریکی محصولات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث دونوں فریق زیادہ مستحکم معاشی تعلقات قائم کرنے اور امریکی ٹیکنالوجی و سپلائی چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم مارک کارنی نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی تجارت کو سیاسی دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر تیزی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے کہا کہ جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے کینیڈا یورپی یونین کا مکمل رکن نہیں بن سکتا، تاہم انہوں نے کینیڈا کے ساتھ کہیں زیادہ قریبی تعلقات قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اگرچہ اجلاس میں کینیڈا کو یورپی یونین کی ایسوسی ایٹ رکنیت دینے کے امکان پر بھی بات ہوئی، تاہم سربراہی اجلاس کے حتمی مشترکہ اعلامیے میں اس حیثیت کو باضابطہ طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
توقع ہے کہ دونوں فریق 2027 کے سربراہی اجلاس میں مستقبل کے ادارہ جاتی تعلقات کی نوعیت پر دوبارہ غور کریں گے۔
کینیڈا اور یورپی یونین کا نیا اتحاد دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون برقرار رکھتے ہوئے معاشی اور اسٹریٹجک خودمختاری مضبوط بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہے۔





