گوجرانوالہ: گوجرانوالہ میں ولیمے کی تقریب سے واپسی پر نوبیاہتا دلہن کو قتل کرنے کا مرکزی ملزم ہفتے کے روز کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔
ملزم پر الزام تھا کہ اس نے صبا نامی خاتون کو ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے پر قتل کیا تھا۔
سی سی ڈی حکام کے مطابق سرفراز نامی ملزم پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔ محکمے کا دعویٰ ہے کہ ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
تاہم مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق پولیس کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق متضاد تفصیلات سامنے آگئیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ کی مادو خلیل روڈ کے قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے مبینہ طور پر سی سی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم زخمی ہوا، جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
زخمی شخص کی شناخت بعد میں گوجرانوالہ میں دلہن کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم کے طور پر ہوئی، جو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گیا۔
دوسری جانب بعض رپورٹس میں بتایا گیا کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو دوسرے صوبے سے گرفتار کیا تھا اور انہیں گوجرانوالہ منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ان کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔
سی سی ڈی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ قتل کے بعد ملزم کراچی چلا گیا تھا اور بعد ازاں بلوچستان میں روپوش ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
مرکزی ملزم کی ہلاکت کے بعد اس کی تلاش کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، تاہم اس کی موت کے حالات اور دیگر ملزمان کے مبینہ کردار سے متعلق سوالات تاحال برقرار ہیں۔
قتل کے مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔





