استنبول: ترکیہ کے شہر استنبول میں بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے کم از کم تین افراد جاں بحق اور پانچ لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق شہر میں گزشتہ 80 سال سے زائد عرصے کے دوران سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول میں بدھ کی صبح بارش کا سلسلہ شروع ہوا، جس کی شدت دن بھر بڑھتی رہی۔ بارش کے باعث سڑکیں زیر آب آ گئیں، املاک کو نقصان پہنچا اور ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوا۔
استنبول کے گورنر داؤد گل نے بتایا کہ شہر میں 1942 سے بارشوں کا ریکارڈ مرتب کیے جانے کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکام نے تصدیق کی کہ استنبول کے یورپی حصے میں واقع ضلع کاغت خانہ کے ایک پارک کے قریب سے ایک شخص کی لاش ملی، جس کے بعد سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایک 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، جو ضلع بلات میں سیلابی پانی میں قدم رکھنے کے دوران بجلی کا کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹر اس کی جان نہ بچا سکے۔
حکام کے مطابق پانچ افراد لاپتا ہیں، جبکہ امدادی ٹیموں کی جانب سے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔
استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع ضلع بیکوز میں خبر رساں ادارے ڈی ایچ اے نے رپورٹ کیا کہ اسکول کی زیر تعمیر عمارت میں جمع ہونے والا پانی نکالنے کی کوشش کے دوران ایک شخص کنویں میں گر کر ہلاک ہو گیا۔ تاہم حکام کی جانب سے اس ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
جمعرات کو بلدیاتی عملے اور فائر فائٹرز نے اسکولوں، فٹ بال گراؤنڈز، گیراجوں اور رہائشی علاقوں سے پانی نکالنے اور کیچڑ صاف کرنے کا کام جاری رکھا۔
گورنر نے اعلان کیا کہ استنبول بھر میں اسکول پیر تک بند رہیں گے۔ انہوں نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سیلاب کے خطرے کے پیش نظر زیر زمین یا تہہ خانے میں واقع رہائش گاہوں میں مقیم افراد کو بھی عمارتوں کی بالائی منزلوں پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ضلع ساری یر میں گاڑیوں کو سیلابی ریلوں میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ امدادی کارکنوں نے زیر آب عمارتوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
دیگر ویڈیوز میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد تعمیراتی مشینری کی مدد سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتے دیکھا گیا۔
سیلاب کے باعث شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً ساری یر میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی، جہاں دکاندار اپنی متاثرہ دکانوں سے سامان نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔
بارشوں سے استنبول کے پڑوسی صوبے بھی متاثر ہوئے۔
صوبہ سکاریا کے علاقے سپانجا میں ایک ندی کے قریب واقع دو منزلہ مکان منہدم ہو گیا۔ حکام کے مطابق عمارت کو حادثے سے پہلے خالی کرا لیا گیا تھا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
صوبہ کوجائیلی کے ضلع گیبزے میں ایک ڈرائیور سیلابی ریلے میں بہہ گیا، تاہم امدادی کارکنوں نے رسیوں کی مدد سے اسے بچا لیا۔
اسی صوبے کے ضلع باش اسکیلے میں ایک شخص کے سیلابی پانی میں بہہ جانے کے بعد لاپتا ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔
بارش اور سیلاب کے باعث فضائی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق بدھ کو استنبول ایئرپورٹ آنے والی 43 پروازوں اور صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ جانے والی تین پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔
تیز ہواؤں کے باعث صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ سے پروازوں کی روانگی بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
ترکیہ کے قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ادارے آفاد (AFAD) نے امدادی کارروائیوں میں رابطہ کاری کے لیے کرائسز ڈیسک قائم کر دیا ہے۔
ادارے کے مطابق بدھ کی شام تک سیلاب کے ایک ہزار 277 واقعات، لینڈ سلائیڈنگ کے 15 واقعات، 47 افراد کے پھنسنے اور دو عمارتوں کی چھتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں، پانی کی نکاسی اور صفائی کا کام جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ہفتے کے اختتام تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔





