سائنس دانوں نے پلوٹو سے آگے سورج کے گرد گردش کرنے والا ایک برفانی فلکی جسم دریافت کیا ہے جو بونا سیارہ ہوسکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2026 ED138 نامی اس جسم کا سراغ چلی میں واقع ویرا سی روبن آبزرویٹری کی دوربین سے لگایا گیا۔
محققین نے اس کا قطر 600 سے 1500 کلومیٹر کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔ سورج سے اس کا فاصلہ زمین کے فاصلے سے تقریباً 46 گنا ہے، جبکہ پلوٹو کا اوسط فاصلہ تقریباً 40 گنا ہے۔
ہارورڈ اینڈ اسمتھ سونین کے سینٹر فار ایسٹروفزکس سے وابستہ ماہر میٹ ہولمین نے پہلی بار اس جسم کی نشاندہی کی۔ دریافت کا اعلان امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر اسپوکین میں ایک سائنسی اجلاس کے دوران کیا گیا۔
چلی کے پہاڑ سیرو پاچون پر واقع روبن آبزرویٹری امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور محکمہ توانائی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
بونا سیارہ کیا ہوتا ہے؟
بونا سیارہ فلکی اجسام کی ایک قسم ہے جس میں پلوٹو بھی شامل ہے۔ اس درجہ بندی کی ایک شرط یہ ہے کہ جسم کی کمیت اتنی ہو کہ اس کی اپنی کششِ ثقل اسے تقریباً گول شکل دے سکے۔
ابتدائی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 ED138 اس شرط پر پورا اتر سکتا ہے، لیکن تصدیق کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔ اس دریافت کا مطلب نظام شمسی میں نویں بڑے سیارے کا اضافہ نہیں ہے۔
بین الاقوامی فلکیاتی یونین پانچ بونے سیاروں کو تسلیم کرتی ہے: پلوٹو، ایرس، ہاؤمیا، ماکے ماکے اور سیریس۔ پہلے چار نیپچون سے آگے گردش کرتے ہیں، جبکہ سیریس مریخ اور مشتری کے درمیان سیارچوں کی پٹی میں واقع ہے۔
پلوٹو کو 2006 تک نظام شمسی کا نواں سیارہ سمجھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی فلکیاتی یونین نے اسے سیارے کی باقاعدہ تعریف پر پورا نہ اترنے کے باعث بونے سیارے کے زمرے میں شامل کردیا تھا۔
جسامت کا اندازہ لگانا مشکل کیوں ہے؟
روبن دوربین اس جسم سے منعکس ہونے والی سورج کی روشنی دیکھتی ہے۔ ایک چھوٹا مگر زیادہ چمک دار جسم اتنی ہی روشنی منعکس کرسکتا ہے جتنی ایک بڑا مگر کم چمک دار جسم۔ اسی لیے صرف چمک دیکھ کر اس کی جسامت طے کرنا مشکل ہے۔
ہولمین کے مطابق مختلف طولِ موج پر مشاہدات سے یہ ابہام دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ چلی میں واقع طاقتور دوربینوں کا مجموعہ، الما، خود اس جسم سے خارج ہونے والی شعاعوں کا سراغ لگا سکتا ہے، جس سے اس کی جسامت کا اندازہ بہتر ہوگا۔
مزید مشاہدات سے اس کی ساخت سمجھنے اور یہ طے کرنے میں بھی مدد ملے گی کہ آیا اسے تسلیم شدہ بونے سیاروں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔





