کراچی: کراچی کی سیشن عدالت نے ہفتے کے روز صحافی اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کی سائبر کرائم کے مقدمے میں درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جھوٹا، ہتک آمیز اور ریاست مخالف مواد شائع کرنے کے الزام میں درج کیا تھا۔
اقرار الحسن کے وکیل اور میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر ان کی رہائی کا حکم دیا۔
عدالت کا یہ فیصلہ اقرار الحسن کی ضمانت کی سابقہ درخواستیں مسترد ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ضمانت کی سابقہ درخواستیں مسترد ہو چکی تھیں
اقرار الحسن کو اکتوبر کے اوائل میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد این سی سی آئی اے کی تحقیقات کے سلسلے میں انہیں لاہور سے کراچی منتقل کیا گیا۔
13 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں تفتیشی ایجنسی کے حوالے کیا تھا۔ بعد ازاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کی گئی۔
19 اکتوبر کو مجسٹریٹ نے این سی سی آئی اے کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اقرار الحسن کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
22 اکتوبر کو مجسٹریٹ نے ان کی ابتدائی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی تھی۔
اس کے بعد 29 اکتوبر کو سیشن عدالت نے بھی ان کی ایک اور درخواستِ ضمانت مسترد کی، تاہم ہفتے کے روز عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
اقرار الحسن پر کیا الزامات ہیں؟
مقدمے کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت اور ہتک آمیز مواد پھیلایا۔
یہ مقدمہ انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
تفتیشی ایجنسی نے الزام عائد کیا کہ ان پوسٹس کا مقصد عوام کو ریاستی اداروں اور حکام کے خلاف اکسانا تھا۔
ڈیجیٹل فرانزک رپورٹ کا تاحال انتظار
عدالتی کارروائی کے دوران اقرار الحسن کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ڈیجیٹل آلات پہلے ہی تحویل میں لیے جا چکے ہیں، اس لیے مزید تفتیش کے لیے انہیں زیرِ حراست رکھنا ضروری نہیں۔
عدالت کی جانب سے ضمانت کی منظوری کے بعد اقرار الحسن کو مقررہ شرائط پوری کرنے پر رہائی مل سکے گی، تاہم ضمانت کی منظوری کا مطلب مقدمے سے بریت نہیں ہے۔
ان کے خلاف فوجداری مقدمے کی کارروائی تاحال جاری ہے۔





