واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے رابطہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سفارتی کوششوں کے ساتھ مزید فوجی کارروائی کا امکان بھی زیر بحث ہے۔
العربیہ انگلش کی اے ایف پی کے اشتراک سے شائع کردہ خبر میں وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے بتایا گیا کہ وینس نے رضائی کو خط بھیجا۔ خط اور اس کے بعد امریکی و ایرانی حکام کے رابطوں میں کسی حتمی امن تجویز کی تفصیلات کے بجائے مذاکرات کے ممکنہ طریقۂ کار پر توجہ دی گئی۔
اخبار کے ایک ذریعے کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیا گیا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ انہوں نے وینس کو رابطے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے ایران کی طبی سامان اور دیگر امداد کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔
تاہم اس رابطے سے باضابطہ مذاکرات بحال ہونے یا کسی معاہدے پر اتفاق ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے اواخر میں شروع کی گئی جنگ نے خلیجی خطے سے توانائی کی ترسیل اور تجارت کو متاثر کیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں، جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان اقدامات سے علاقائی تجارت اور توانائی کی رسد پر دباؤ برقرار ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے الگ رپورٹ میں بتایا کہ واشنگٹن نے بعض خلیجی عرب ممالک کو تین نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ مختصر اور شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اس لیے یہ ممکنہ کارروائی سے متعلق اطلاع ہے، کسی اعلان کردہ فوجی مہم کی تصدیق نہیں۔
ایران نے نئے حملے کی صورت میں وسیع تر جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ رضائی کے مطابق امریکی مفادات سے منسلک بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا مراکز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ میں جنگ بندی، مذاکرات کی متفقہ تاریخ یا حتمی امن لائحۂ عمل کا اعلان شامل نہیں۔




