ریاض: سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے سکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری کرتے ہوئے غیر ہنگامی خدمات انجام دینے والے امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دہرائی ہے۔ اس اقدام کی وجہ یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کے حملوں سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں۔
دو نومبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سفارت خانے نے واضح کیا کہ امریکی محکمہ خارجہ کا انخلا کا حکم 23 اکتوبر سے نافذ ہے۔
سفارت خانے کے مطابق حوثیوں کی جانب سے شہری ہوائی اڈوں اور دیگر بنیادی تنصیبات پر حملوں میں شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فضائی سفر بھی متاثر ہوا ہے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی موجودہ علاقوں سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔
نئی سفری پابندیوں کے تحت سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے پہلے امریکی سفارتی مشن کے سربراہ سے خصوصی اجازت لینا ہوگی۔
انہیں یمن کی سرحد سے 20 میل، یعنی تقریباً 32 کلومیٹر کے اندر سفر کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جازان، عسیر اور نجران کے صوبوں سمیت قطیف، طائف اور ینبع جانے کے لیے اضافی اجازت درکار ہوگی۔
سعودی ہوائی اڈوں پر پروازوں کا نظام متاثر
حالیہ حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 23 اکتوبر سے بعض اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازیں جزوی طور پر بحال کی گئی تھیں۔ جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں پر بھی پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کے لیے تیسرے درجے کی سفری وارننگ برقرار رکھی ہے، جس کے تحت امریکی شہریوں کو اپنے سفر پر نظرثانی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یمن سے متصل سرحدی علاقوں کے لیے چوتھے درجے کی وارننگ نافذ ہے، جس میں سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
علاقائی کشیدگی اور ممکنہ اثرات
یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی کے دوران سامنے آئی ہے۔
حوثی تحریک 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض ہے جبکہ سعودی عرب نے مارچ 2015 میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔
حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔
29 اکتوبر کو سعودی اتحاد نے ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کی اطلاع دی تھی۔ اگلے روز مغربی سعودی عرب کی جانب آنے والے ایک کروز میزائل اور ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون کو روکنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
ان حملوں سے فضائی آمدورفت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی تجارت متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
امریکا نے سعودی عرب میں اپنی سفارتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان نہیں کیا، تاہم غیر ہنگامی عملے کے انخلا سے امریکی سفارتی مشنز میں موجود عملے کی تعداد کم ہوگی۔
ان پابندیوں کے خاتمے کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ مستقبل میں سفارتی عملے کی تعیناتی اور سفری انتظامات کا انحصار سکیورٹی صورت حال پر ہوگا۔




