واشنگٹن: ایران جنگ کے امریکی فوجی اخراجات کا تخمینہ 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ روئٹرز کو حاصل پینٹاگون کے اعداد کے مطابق یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن مزید جنگی کارروائیوں کا امکان بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تازہ رقم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے جولائی میں بتائے گئے 37.5 ارب ڈالر کے تخمینے سے 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ پینٹاگون نے نیا تخمینہ عوامی طور پر جاری نہیں کیا اور خبر رساں ادارے کی درخواست پر فوری مؤقف بھی نہیں دیا۔
تخمینے میں فوجی کارروائیوں کے اخراجات کے ساتھ استعمال شدہ گولہ بارود اور تباہ شدہ سازوسامان کی متوقع تبدیلی بھی شامل ہے۔ گولہ بارود کے ذخائر بحال کرنے کے لیے 29 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہوں گے۔
طیاروں اور ڈرونز سمیت تباہ شدہ فوجی سازوسامان کی جگہ نیا سامان حاصل کرنے کے لیے کانگریس سے چھ ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی۔ یہ رقوم مجموعی تخمینے کے اجزا ہیں، انہیں 47 ارب ڈالر کے علاوہ الگ اخراجات نہیں سمجھنا چاہیے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ شروع کی تھی اور ابتدا میں مختصر تنازعے کی توقع ظاہر کی تھی۔ ابتدائی امریکی حکمت عملی مہنگے اور درست نشانہ لگانے والے میزائلوں سے ایرانی دفاع کو کمزور کرکے بعد میں نسبتاً سستے ہتھیار استعمال کرنے پر مبنی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اپریل کی جنگ بندی نے ایران کو زیرزمین ذخائر تک دوبارہ رسائی اور بعض میزائل، ڈرونز اور دفاعی صلاحیتیں بحال کرنے کا موقع دیا۔
امریکا نے بعدازاں ایران کی تیل برآمدات سے آمدن محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی عائد کی۔ ٹرمپ نے تین نومبر کے کانگریسی انتخابات کے بعد جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا امکان مسترد نہیں کیا۔ نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون حکم ملنے کی صورت میں شدید لڑائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کرچکا ہے۔
تخمینے میں پروازوں اور سائبر معاونت جیسے اخراجات شامل ہیں، تاہم ایرانی حملوں سے متاثرہ امریکی اڈوں کی مرمت کا متوقع خرچ واضح طور پر شامل نہیں۔ اس لیے جنگ کے مکمل مالی بوجھ کی حد ابھی غیر یقینی ہے۔




