کابل: افغانستان کی طالبان حکومت نے امریکا کی جانب سے 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کے مبینہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن سے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ نے پیر، 2 نومبر کو جاری بیان میں کہا کہ افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ان کے حقوق، قانونی حیثیت اور متعلقہ حکام کے درمیان ضروری رابطہ کاری کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان امریکی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کے بعد جاری کیا گیا جن کے مطابق واشنگٹن ایسے افغان شہریوں کو پاکستان منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے جنہیں امریکا میں قانونی رہائش کی دستاویزات حاصل نہیں ہو سکیں۔
رپورٹس کے مطابق ان افراد میں ایسے افغان شہریوں کے اہل خانہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلا سے قبل افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کیا تھا۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ طالبان حکومت ان اطلاعات پر شدید تشویش رکھتی ہے اور امریکا سے توقع کرتی ہے کہ وہ متاثرہ افغان شہریوں کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات باہمی مفاہمت، ضروری رابطہ کاری اور متعلقہ افراد کے جائز حقوق کو مدنظر رکھ کر کیے جانے چاہییں۔
ترجمان نے اس معاملے پر عملی تعاون اور بات چیت کے لیے افغان حکومت کی آمادگی بھی ظاہر کی۔
پاکستان کے ذریعے افغان شہریوں کی واپسی کا منصوبہ
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا سے بے دخل کیے جانے والے افغان شہریوں کو پہلے پاکستان منتقل کیا جائے گا، جہاں سے ان کی افغانستان واپسی کا انتظام ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا فی الحال ان افراد کو براہ راست افغانستان منتقل کرنے کا انتظام نہیں کر سکتا۔
تاہم پاکستان کی حکومت نے اس مبینہ منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور نہ ہی افغان شہریوں کی منتقلی کے لیے کسی تاریخ کا اعلان سامنے آیا ہے۔
امریکی افواج کے سابق افغان معاونین کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے مطابق بے دخلی کا سامنا کرنے والوں میں ایسے افراد کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی معاونت کی تھی۔
انسانی حقوق اور افغان پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ان افراد کی واپسی ان کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات کے دوران نئی پیش رفت
دوسری جانب اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے اور سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی۔
ایسی صورتحال میں امریکا کی جانب سے افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے واپسی کا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل جرمنی اور ترکیہ بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظات کے باوجود افغان شہریوں کو براہ راست افغانستان واپس بھیج چکے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ امریکا سے افغان شہریوں کی بے دخلی کب شروع ہوگی، انہیں پاکستان کے ذریعے کس طریقے سے منتقل کیا جائے گا اور آیا واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان اس حوالے سے کوئی حتمی انتظام طے پا چکا ہے۔
متاثرہ افراد کی حتمی تعداد اور ان کی واپسی کی شرائط بھی سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئیں۔




