بیجنگ: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے چین میں اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام ایپل انٹیلی جنس کی آزمائش شروع کر دی ہے۔ کمپنی نے یہ قدم عالمی سطح پر اپنی اے آئی سروسز متعارف کرانے کے تقریباً دو سال بعد اٹھایا ہے۔
بدھ سے شروع ہونے والی آزمائشی سروس فی الحال صرف سافٹ ویئر ڈیولپرز کے لیے دستیاب ہے، جبکہ ایپل کے مطابق عام صارفین دسمبر سے ان سہولتوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ایپل نے چین میں مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے مقامی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جس کے تحت علی بابا کے کیوین (Qwen) اے آئی ماڈلز کو ایپل کے آلات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں 18 اے آئی فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں فون کالز کا براہ راست ترجمہ، پیغامات کا خلاصہ تیار کرنا اور تحریر کی درستی جیسی سہولتیں شامل ہیں۔
تاہم ایپل کے وائس اسسٹنٹ سری کا جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی ورژن اس مرحلے میں دستیاب نہیں ہوگا۔
چین میں ایپل کی اے آئی سروسز تاخیر کا شکار کیوں ہوئیں؟
ایپل نے 2024 کے موسم خزاں میں امریکا سمیت مختلف ممالک میں ایپل انٹیلی جنس متعارف کرایا تھا، تاہم چین کے سخت ضوابط کے باعث یہ سروس وہاں دستیاب نہیں ہو سکی تھی۔
چینی قوانین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے مقامی انٹرنیٹ ریگولیٹر کے ساتھ رجسٹریشن، مقامی ڈیٹا سینٹرز کا استعمال اور صارفین کے ڈیٹا کی ملک کے اندر پروسیسنگ ضروری ہے۔
ان شرائط نے ایپل کے لیے مشکلات پیدا کیں کیونکہ کمپنی دیگر ممالک میں اوپن اے آئی اور گوگل کی ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کرتی ہے، جبکہ ان کمپنیوں کی خدمات چین میں دستیاب نہیں یا ان تک رسائی محدود ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایپل نے علی بابا کے علاوہ بائیڈو، بائٹ ڈانس اور ٹینسینٹ سمیت متعدد چینی کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ شراکت داری پر بات چیت کی تھی۔
بالآخر جولائی 2026 میں ایپل کو چین میں اپنی مصنوعی ذہانت کی خدمات متعارف کرانے کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل ہوئی۔
علی بابا کا کیوین ماڈل تحریر تیار کرنے، ترجمہ کرنے، معلومات کا خلاصہ بنانے اور کمپیوٹر پروگرامنگ سمیت مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینی کمپنیوں سے مقابلہ ایپل کے لیے چیلنج
چین کی مقامی اسمارٹ فون کمپنیاں پہلے ہی اپنے آلات میں مصنوعی ذہانت کے جدید فیچرز شامل کر چکی ہیں، جس کے باعث ایپل کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
تحقیقی ادارے کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے سینئر تجزیہ کار ایوان لام کے مطابق ایپل انٹیلی جنس کی چین میں آمد کمپنی کی خدمات میں موجود ایک اہم کمی دور کرے گی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس پیش رفت سے ایپل کو لازمی طور پر مقامی کمپنیوں پر نمایاں برتری حاصل نہیں ہوگی۔
تحقیقی ادارے آئی آئی میڈیا کے بانی ژانگ یی کے مطابق مقامی شراکت داروں پر انحصار ایپل کی قیمتوں کے تعین اور مصنوعی ذہانت کی خدمات پر کنٹرول کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین میں ایپل کی اے آئی سروسز متعارف کرانے میں تاخیر تکنیکی صلاحیت کی کمی کے بجائے مقامی قوانین کی تعمیل سے متعلق اخراجات اور تقاضوں کی وجہ سے ہوئی۔
چین میں 11 کروڑ سے زائد آئی فون اے آئی استعمال کرنے کے قابل
مارکیٹ ریسرچ کمپنی اومڈیا کے مطابق چین میں 11 کروڑ سے زائد ایسے آئی فون موجود ہیں جو ایپل انٹیلی جنس کے فیچرز استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے کمپنی کو نئے آلات کی فروخت کے علاوہ موجودہ صارفین تک بھی اپنی مصنوعی ذہانت کی خدمات پہنچانے کا موقع مل سکتا ہے۔
ایپل کے مطابق گزشتہ سہ ماہی کے دوران گریٹر چائنا خطے میں کمپنی کی آمدن میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس خطے میں چین کے علاوہ ہانگ کانگ اور تائیوان بھی شامل ہیں۔
اس کے باوجود چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام، ڈیجیٹل اسسٹنٹس اور دیگر جدید سہولتوں پر تیزی سے کام کر رہی ہیں۔
ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس کو اسی مسابقتی ماحول میں کمپنی کی پوزیشن مضبوط بنانے کا چیلنج درپیش ہے۔
بلومبرگ کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ایپل دسمبر میں آئی او ایس 27.3 اپ ڈیٹ کے ذریعے چین میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی فیچرز متعارف کرانے کی تیاری کر رہا تھا۔
تاحال عام صارفین کے لیے سروس کے اجرا کی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی، جبکہ سری کے جدید ورژن سمیت مزید اے آئی سہولتوں کی دستیابی کا شیڈول بھی واضح نہیں کیا گیا۔




