تعز: یمن کے شہر تعز کے جنوب میں جمعرات کو حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شروع ہوگئیں۔ اسی روز سعودی عرب نے حوثیوں کا ایک بیلسٹک میزائل روکنے کی اطلاع دی، جبکہ حملوں کے بعد عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں بحال ہوگئیں۔
انادولو ایجنسی کے مطابق یمن ٹوڈے ٹی وی نے بتایا کہ الاقروض اور المسرخ کے محاذوں اور صبر الموادم ضلع کے گاؤں الرہن میں لڑائی دوبارہ شروع ہوئی۔ رپورٹ میں جانی نقصان یا کسی علاقے کا کنٹرول تبدیل ہونے کی تفصیل نہیں دی گئی۔
یہ لڑائی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز اور حوثیوں کے درمیان ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضہ کیا تھا، جبکہ سعودی قیادت میں فوجی اتحاد مارچ 2015 سے یمنی حکومت کی حمایت کررہا ہے۔
عدن میں ہوائی اڈے اور قریبی علاقوں پر میزائل حملوں کے بعد پروازیں بحال ہوگئیں۔ حوثیوں نے اس سے پہلے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ عینی شاہدین نے انادولو کو بتایا کہ بدھ کو ایک میزائل ہوائی اڈے سے متصل النصر کیمپ میں گرا، جہاں یمنی کوسٹ گارڈ کے اہلکار اور وزارت داخلہ کا صدر دفتر موجود ہیں۔
الگ پیش رفت میں سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی فضائی دفاع نے جمعرات کی صبح مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل روک لیا۔ بیان میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
سعودی شہری دفاع نے اس اعلان سے پہلے مشرقی صوبے میں خطرے کا انتباہ جاری کیا تھا۔ بعدازاں مشرقی صوبے اور نجران کے لیے خطرہ ختم ہونے کی اطلاع دی گئی۔
اتحاد نے بدھ کو بھی طائف کی طرف داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا بتایا تھا۔
سعودی شہری دفاع کے مطابق منگل کی رات روکے گئے دو حوثی میزائلوں کا ملبہ ریاض میں ایک عمارت، زیر تعمیر منصوبے اور گاڑی کو نقصان پہنچانے کا سبب بنا۔ بیان میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔




