اسٹاک ہوم: ڈیجیٹل جدت کے لیے معروف سویڈن اپنے کلاس رومز میں ایک مانوس امتزاج کو دوبارہ زیادہ جگہ دے رہا ہے: کتاب، کاغذ اور پنسل۔
حکومت کی تعلیمی پالیسی ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے، لکھنے اور حساب کی بنیادی مہارتوں پر زور دیتی ہے۔ اس کے مطابق ڈیجیٹل تعلیمی وسائل اسی عمر اور انداز میں متعارف ہونے چاہییں جب وہ بچوں کے سیکھنے میں مدد دیں۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے 2023 میں بھی سویڈش کلاس رومز میں کتابوں، خاموش مطالعے اور ہاتھ سے لکھنے کی مشق پر بڑھتی توجہ کی رپورٹ دی تھی۔ اس دوران بچوں کی مطالعے کی کارکردگی میں کمی پر تشویش بھی سامنے آئی تھی۔
ایک واضح تبدیلی جولائی 2025 میں نافذ ہوئی، جب پری اسکولوں میں ڈیجیٹل تعلیمی وسائل استعمال کرنے کی لازمی شرط ختم کر دی گئی۔
کتابوں کی طرف واپسی کے لیے مالی وسائل بھی مختص کیے گئے ہیں۔ جون 2026 کے سرکاری بیان کے مطابق رواں سال نصابی کتابوں کی خریداری کے لیے 555 ملین سویڈش کرونا رکھے گئے۔ جولائی 2025 سے طلبہ کے لیے عملے والی اسکول لائبریریوں تک رسائی کا تقاضا بھی نافذ ہے۔
تاہم، پالیسی میں تبدیلی سے عملی مسائل فوراً ختم نہیں ہوتے۔
آٹھ اکتوبر کو شائع ہونے والے سویڈش اسکولز انسپکٹوریٹ کے جائزے میں شامل 30 اسکولوں میں سے نصف سے زیادہ کو کتابوں اور دوسرے تعلیمی مواد تک رسائی یا ان کے استعمال کے انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت تھی۔ بعض طلبہ کو گھر پر پڑھنے کے لیے کتابوں تک بہتر رسائی درکار تھی۔
ادارے نے واضح کیا کہ یہ نتائج صرف جائزے میں شامل اسکولوں سے متعلق ہیں، پورے ملک کی صورت حال کی نمائندگی نہیں کرتے۔
ان اصلاحات کا محور بچوں کے لیے مؤثر تدریس ہے۔ کتاب اور ہاتھ سے لکھنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے مناسب ڈیجیٹل وسائل کے استعمال کی گنجائش برقرار رکھی گئی ہے۔





