جے پور: بھارتی ریاست راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر مدن راٹھور کے اس بیان نے سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے کہ اگر پاکستان اور امریکا کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو بھارت پاکستان کا ساتھ دے گا۔
جمعرات کو ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مدن راٹھور نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے جغرافیائی تعلقات ایسی کسی فرضی جنگ میں اس کے مؤقف پر اثر انداز ہوں گے۔
مدن راٹھور نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر آج امریکا اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو ہم پاکستان کے ساتھ ہوں گے، کیونکہ وہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔‘‘
بعد ازاں انہوں نے پاکستان اور کسی دوسرے ملک کے درمیان ممکنہ تنازع اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے براہِ راست اختلافات میں فرق واضح کیا۔
بھارت اور پاکستان کے باہمی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں بھارتی عوام اپنے ملک کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ اس فرق کو سمجھیں۔
ان کے بیان پر کانگریس رہنماؤں اور دیگر سیاسی شخصیات کی جانب سے تنقید سامنے آئی، جنہوں نے پاکستان سے متعلق مدن راٹھور کے مؤقف اور ان کے بیان کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھائے۔
مدن راٹھور کے بیان کو اس لیے بھی توجہ حاصل ہوئی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے سیاسی اور سیکیورٹی کشیدگی موجود ہے، جس کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے سفارتی تعلقات بارہا متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم ان کا بیان پاکستان اور امریکا کے درمیان کسی حقیقی فوجی تصادم کے بجائے ایک فرضی جنگ سے متعلق تھا۔
اس تنازعے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مدن راٹھور کے بیان کا مقصد علاقائی یکجہتی پر زور دینا تھا یا وہ بھارت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کسی وسیع تر مؤقف کی نشاندہی کر رہے تھے۔
مدن راٹھور کا بیان بھارت کی خارجہ پالیسی میں کسی تبدیلی کا باضابطہ اعلان نہیں ہے۔
اس کے باوجود ان کے ریمارکس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خصوصاً ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور بھارت کے اپنے قومی مفادات کے درمیان ان کی جانب سے بیان کیے گئے فرق کے حوالے سے۔





