لندن: خبر رساں ادارے رائٹرز کی 15 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں نے 28 فروری کو علاقائی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سات خلیجی ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی 84 اہم تنصیبات کو کم از کم 135 ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
تحقیقات کے مطابق تیل کی تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور صنعتی مراکز میں نصب اہم آلات کو نشانہ بنائے جانے کے باعث متعدد مقامات پر سرگرمیاں طویل عرصے تک متاثر رہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر معاشی نقصان بھی ہوا۔
رائٹرز نے اپنی تحقیقات کے دوران سیٹلائٹ تصاویر، فوٹوگراف، ویڈیوز، سرکاری بیانات اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لیا، جبکہ ان واقعات سے متعلق معلومات رکھنے والے 36 افراد کے انٹرویوز بھی کیے۔
رپورٹ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان اور عراق کی اہم تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی فجیرہ آئل پورٹ سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تنصیبات میں شامل ہے۔ آبنائے ہرمز سے باہر واقع یہ بندرگاہ تیل کی برآمدات کا ایک اہم مرکز ہے۔
رائٹرز کے مطابق علاقائی جنگ شروع ہونے کے بعد سے فجیرہ بندرگاہ پر کم از کم 19 حملے کیے گئے۔
قطر میں راس لفان کے مائع قدرتی گیس کے بڑے مرکز پر ہونے والے حملوں میں ایسے خصوصی کولنگ آلات کو نقصان پہنچا جو قدرتی گیس کو مائع شکل میں تبدیل کرنے کے عمل میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
دیگر متاثرہ تنصیبات میں قطر کا پرل گیس ٹو لیکوئڈز پلانٹ، متحدہ عرب امارات کا حبشان گیس کمپلیکس اور الطویلہ ایلومینیم اسمیلٹر بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت اور مکمل بحالی کے لیے طویل وقت درکار ہے۔
سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات بھی ان حملوں سے متاثر ہوئیں۔ ایک اہم تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بحیرہ احمر کے قریب واقع تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رائٹرز کی تحقیقات میں کئی خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں پر بار بار ہونے والے حملوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض واقعات میں سرکاری بیانات اور دستیاب شواہد کے درمیان تضادات سامنے آئے۔
کچھ سرکاری حکام نے تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں یا ڈرونز کے گرنے والے ملبے کو قرار دیا، تاہم تحقیقات میں سامنے آنے والے بعض شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم آلات کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر مقام پر ہونے والے نقصان کی مکمل نوعیت یا فضائی دفاعی نظام کی مؤثریت کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔





