نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں حکام نے جمعہ 16 اکتوبر کو کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک کو احتجاج سے قبل بند کر دیا۔ یہ احتجاج ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیر اہتمام ہونے والا یہ احتجاج ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف جاری مظاہروں کا حصہ ہے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ان تبدیلیوں سے اقلیتی برادریاں، خصوصاً مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
بھارتی الیکشن کمیشن نے بے ضابطگیوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا مقصد دہری رجسٹریشن، وفات پا جانے والے افراد اور جعلی اندراجات کو انتخابی ریکارڈ سے خارج کرنا ہے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنے حامیوں سے سینٹرل پارک میں جمع ہونے کی اپیل کی۔ اس سے قبل ان کی تنظیم کے دو کارکنوں کو جنتر منتر پر سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، جہاں وہ بھارتی قومی پرچم لہرانے گئے تھے۔
پولیس نے اس سے پہلے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقام کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت واپس لے لی تھی۔
جمعہ کے مظاہرے سے قبل حکام نے نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے اور متعدد اہم چوراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔
بلدیاتی حکام نے انتظامی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ سینٹرل پارک دو روز تک بند رہے گا۔
دہلی پولیس نے امن و امان اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کے پیش نظر کناٹ پلیس کے اطراف عوامی اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی۔
پولیس نے خبردار کیا کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق مخصوص افراد کو کسی متبادل مقام پر جمع ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ گرفتاری کے امکان کے باوجود وہ احتجاج جاری رکھنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔
یہ مظاہرے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی نگرانی میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے بعد شروع ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عمل کے دوران انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے نتیجے میں ووٹ ڈالنے کے اہل شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن نے اس بات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا یہ عمل وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی ریکارڈ کی درستگی برقرار رکھنے کے لیے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی ضروری ہے۔
بی جے پی کے ارکان ماضی میں یہ الزام بھی عائد کر چکے ہیں کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے آنے والے غیر دستاویزی تارکین وطن کے نام بھارتی ووٹر فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس دعوے نے ووٹر رجسٹریشن سے متعلق تنازعے میں مزید اضافہ کیا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو اپوزیشن کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مخالف جماعتوں پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کا مقصد انتخابی اصلاحات کے بجائے سیاسی مفادات کا حصول ہے۔
ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے نے اپوزیشن تنظیموں، انتخابی حکام اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مظاہرین اس عمل کے حوالے سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔





