ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت ریاض کے علاقے کی طرف داغا گیا کروز میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا ہے۔
فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ہفتے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں میزائل تباہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے حملے کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد کی۔
تاہم سعودی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ میزائل کا اصل ہدف کیا تھا، اسے کس مقام پر تباہ کیا گیا اور آیا اس کے ملبے سے کسی قسم کا نقصان ہوا۔
ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بھی سعودی فوجی اتحاد کے دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تین روز کے دوران میزائل روکنے کا دوسرا واقعہ
یہ واقعہ سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ تین روز کے دوران میزائل روکنے کے دوسرے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
جمعرات کو سعودی فوجی اتحاد نے مدینہ منورہ کے علاقے کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس اعلان سے کچھ دیر قبل سعودی محکمہ شہری دفاع نے بحیرہ احمر کے کنارے واقع اہم بندرگاہی شہر ینبع کے قریب ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی تھی۔
تاہم حکام نے اس وارننگ اور میزائل کے واقعے کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں کی تھی۔
ینبع سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے اہم بندرگاہ ہے، جہاں ملک کے مشرقی علاقوں سے خام تیل پہنچانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ختم ہوتی ہے۔
یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں
ریاض کی جانب میزائل داغے جانے کی اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔
سعودی عرب مارچ 2015 سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں قائم فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔
حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے شمالی علاقوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
جمعہ کو یمنی حکومتی فوج نے جنوب مغربی صوبے تعز میں حوثیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران متعدد علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔
یمن کی وزارت دفاع نے حوثیوں پر ایک پرہجوم بازار کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا، جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
تازہ واقعات مشرق وسطیٰ میں جاری علاقائی کشیدگی اور اسے کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کے دوران سامنے آئے ہیں۔
سعودی حکام نے ریاض کی جانب داغے گئے میزائل کے ممکنہ ہدف اور اسے تباہ کرنے کے مقام سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔





