تہران: ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج امریکا اور فلسطین میں قابض قوتوں کے ساتھ جنگ کے آغاز کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط، تجربہ کار اور کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق فوجی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران براہ راست فوجی تصادم سے ایرانی مسلح افواج نے اہم تجربہ حاصل کیا ہے، جس کے بعد ان کی دفاعی تیاری اور مستعدی میں اضافہ ہوا ہے۔
جمعہ کو شہر پیشوا میں ایک یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اکرم نیا نے کہا کہ ایرانی فوج، پاسدارانِ انقلاب اور پولیس فورس پہلے سے زیادہ پُراعتماد اور اپنے فرائض انجام دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ان کے مطابق جنگ کے دوران پیش آنے والے حالات نے ایران کی عسکری صلاحیت اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی استعداد کو بہتر بنایا ہے۔
تاہم ایرانی فوج کی صلاحیتوں میں اضافے سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
نئے امریکی حملے کی صورت میں جواب دینے کا انتباہ
ایرانی فوجی ترجمان نے امریکا کو مزید فوجی کارروائیوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی نئے حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس سے قبل بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ ایرانی مسلح افواج 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے وقت کی نسبت اب کسی ممکنہ تصادم کے لیے زیادہ تیار ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز کے قریب حالیہ امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور بحری آمدورفت سے متعلق اختلافات برقرار ہیں۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف برقرار
ایرانی فوج کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے متعلق تہران کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی شرائط تسلیم کیے بغیر اس اہم سمندری راستے کو موجودہ پابندیوں سے آزاد نہیں کیا جائے گا۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کی اہمیت اور اس کے قومی مفادات کو نظرانداز کرکے بحری آمدورفت معمول پر نہیں لائی جا سکتی۔
ایران امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات پر قابلِ قبول انتظامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں جاری کشیدگی نے تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب علاقائی ممالک کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم پابندیوں، بحری راستوں کی بحالی اور سکیورٹی ضمانتوں پر اختلافات تاحال حل نہیں ہو سکے۔
ایرانی فوج کے تازہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران اپنی دفاعی تیاری پر زور دینے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں اپنا مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تاہم ایرانی مسلح افواج کے جنگ کے آغاز سے زیادہ طاقتور ہونے کے دعوے کی کسی آزادانہ عسکری جائزے سے تصدیق نہیں ہوئی۔





