دوحہ: قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے سفارتی حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ضروری ہے۔
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے آکسفرڈ یونیورسٹی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کو مکمل طور پر مثالی معاہدے کا انتظار کرنے کے بجائے ایسے قابلِ قبول حل پر اتفاق کرنا چاہیے جس سے موجودہ تنازع ختم کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
قطری وزیراعظم کے مطابق دوحہ واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ خطے کی صورتحال مزید بے قابو ہونے سے روکی جا سکے۔
امریکی انتخابات کے بعد بھی واشنگٹن مذاکرات پر آمادہ
شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے بتایا کہ امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
ان کے مطابق انتخابی نتائج کے بعد بھی واشنگٹن کے مذاکرات سے متعلق مؤقف میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
قطری وزیراعظم کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں خدشات موجود ہیں کہ امریکی صدر انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل چند ہفتوں کے دوران ایران پر مزید حملوں سے گریز کیا تھا۔
دوسری جانب ایران مسلسل خبردار کرتا رہا ہے کہ کسی نئے امریکی حملے کی صورت میں خطے میں امریکی فوجی مفادات اور فلسطین میں قابض قوتوں سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
قطر کا کہنا ہے کہ مزید فوجی تصادم روکنے کے لیے سفارتی رابطے برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ایران کے قریب نئے حملوں کی اطلاعات
سفارتی کوششوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب سکیورٹی صورتحال ایک مرتبہ پھر تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں نے ہفتے کو اطلاع دی کہ جزیرہ قشم پر دو میزائل گرے ہیں، تاہم حملوں کے ذمہ داروں اور ممکنہ نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ان اطلاعات کے وقت تک امریکا نے ایرانی سرزمین پر کسی نئے حملے کا اعلان نہیں کیا تھا۔
اس صورتحال کے باوجود قطر کا مؤقف ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
تاحال کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات مکمل ہونے کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دوحہ نے واضح کیا ہے کہ خطے میں مزید کشیدگی روکنے اور ممکنہ امن معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رہیں گی۔





