تہران: ایران کے جزیرہ قشم پر مبینہ امریکی حملوں نے آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور علاقائی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے پیر کو جزیرہ قشم پر محدود حملے کیے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اس کارروائی کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ان حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے پیر کی رات جزیرے پر متعدد دھماکوں کی اطلاع دی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق جزیرے پر یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے، جبکہ عینی شاہدین نے علاقے میں دو طیارے دیکھنے کی اطلاع دی۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے بھی ساحلی بندرگاہی شہر بندر لنگہ کے قریب دھماکوں کی خبر دی۔
مبینہ امریکی کارروائی سے قبل امریکی حکام نے کہا تھا کہ ایرانی افواج نے امریکی عسکری اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کیے تھے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے حملوں کو ان خطرات کے جواب میں کی گئی کارروائی قرار دیا۔
دوسری جانب اے بی سی نیوز نے دو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی محدود نوعیت کی تھی اور اس کا مطلب بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی دوبارہ شروعات نہیں تھا۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے مبینہ حملوں سے متعلق سوالات امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب منتقل کر دیے، جس نے رپورٹ سامنے آنے تک تازہ کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔
اس معاملے میں مختلف اطلاعات کے درمیان فرق اہم ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے جزیرے پر دھماکوں کی خبریں دی ہیں، جبکہ ان دھماکوں کو امریکی فوجی حملوں سے منسوب کرنے اور کارروائی کے مقاصد سے متعلق معلومات امریکی حکام کے حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے فراہم کی ہیں۔
جزیرہ قشم ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟
جزیرہ قشم آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس جغرافیائی محل وقوع کے باعث جزیرہ دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک کے قریب واقع ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق 2025 میں اس گزرگاہ سے روزانہ اوسطاً دو کروڑ بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی تھیں، جو سمندری راستوں سے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بنتا ہے۔
اس لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے اثرات صرف ایران یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی، بحری نقل و حمل کے اخراجات اور بین الاقوامی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں پر ممکنہ اثرات
جزیرہ قشم سے متعلق تازہ اطلاعات پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔
30 اکتوبر کو سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے تہران کے دوروں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط امید ظاہر کی تھی۔
تاہم جزیرہ قشم پر مبینہ امریکی حملوں کی اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
اس صورتحال میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے مذاکراتی کوششیں مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی تیل منڈی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
جزیرہ قشم پر مبینہ حملوں کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں اس پیش رفت کے معاشی اثرات جانچنے کا ایک اہم ذریعہ ہوں گی۔
منگل کو ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، کیونکہ جزیرہ قشم پر حملوں کی اطلاعات سے کشیدگی میں اضافے اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ سامنے آئے۔
آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے نہ صرف تیل کی عالمی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ بحری مال برداری اور توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ عالمی توانائی کی قیمتوں اور تجارتی راستوں میں عدم استحکام ان کی معیشتوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
فی الحال مبینہ حملوں سے ہونے والے نقصان کی نوعیت، نشانہ بنائے گئے مخصوص مقامات اور ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
تاہم خطے میں مزید فوجی کارروائی یا آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں کسی رکاوٹ سے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دیگر علاقائی معیشتوں کو توانائی اور تجارت کے شعبوں میں نئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




