پاکستان نے سمندری سلامتی مضبوط بنانے اور بین الاقوامی امن کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال پر زور دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے یہ خبر دی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل میں نئی ٹیکنالوجیز اور سمندری سلامتی کے عالمی امن پر اثرات سے متعلق اعلیٰ سطح کے کھلے مباحثے میں یہ مؤقف پیش کیا۔
عثمان جدون نے ان ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کو روکنے اور ان کے فوائد تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد، خصوصاً بحری قزاقی کے خطرے سے دوچار جہاز رانوں کی مدد کے لیے بھی یہ ٹیکنالوجیز باآسانی دستیاب ہونی چاہییں۔
سمندری سلامتی کیا ہے؟
سمندری سلامتی سے مراد بحری جہازوں، ان کے عملے، بندرگاہوں اور سمندری راستوں کو قزاقی، حملوں اور سائبر دراندازی جیسے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس کا مقصد سمندر کے ذریعے سامان اور لوگوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانا ہے۔
اس کی اہمیت صرف جہاز راں کمپنیوں تک محدود نہیں۔ مقدار کے لحاظ سے بین الاقوامی اشیا کی تجارت کا تقریباً 80 فیصد سمندر کے ذریعے ہوتا ہے۔ سمندری آمدورفت میں رکاوٹ سے سامان کی ترسیل میں تاخیر اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے اثرات خوراک، توانائی اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی پر پڑتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کیسے مدد دے سکتی ہے؟
مصنوعی ذہانت کمپیوٹر سسٹمز کو بڑی مقدار میں معلومات کا جائزہ لینے، ان میں مخصوص رجحانات پہچاننے اور انسانی فیصلوں میں مدد دینے کے قابل بناتی ہے۔ سمندری شعبے میں ایسے آلات جہازوں کی آمدورفت کے اعدادوشمار جانچنے اور ایسی سرگرمی کی نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں جس پر مزید توجہ درکار ہو۔
نئی ٹیکنالوجیز میں دور سے چلائے جانے والے اور خودکار بحری جہاز بھی شامل ہیں، جو بعض کام براہ راست انسانی کنٹرول میں کمی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔ ان کے استعمال کے لیے حفاظت، سائبر سکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات ضروری ہیں۔ بین الاقوامی بحری تنظیم، آئی ایم او، نے خودکار تجارتی جہازوں کے لیے ان امور پر مشتمل ضابطہ تیار کیا ہے۔
ڈیجیٹل نظاموں پر بڑھتا انحصار نئے خطرات بھی پیدا کرتا ہے۔ آئی ایم او کے مطابق معلومات یا کمپیوٹر سسٹمز میں دراندازی سے جہاز رانی کے معمولات، حفاظت اور سکیورٹی متاثر ہوسکتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ بحیرۂ عرب میں اپنی بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کے تحفظ سے جڑا ہے۔ عثمان جدون کا منصفانہ رسائی کا مطالبہ اس ضرورت کو بھی سامنے لاتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک سمندری سرگرمیوں کے تحفظ اور خطرے میں موجود عملے کی امداد کے لیے ضروری ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔






