پشاور، 3 نومبر: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کو پارٹی کے زیر حراست رہنماؤں کی رہائی اور سیاسی مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے بعد سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھائے۔
انہوں نے دونوں رہنماؤں سمیت پی ٹی آئی کے دیگر سیاست دانوں کی حراست سے متعلق درخواستیں لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوانے کے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے اور سیاسی معاملات کو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
انہوں نے سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے زیر حراست ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور عمران خان کی بہنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی حراست کا معاملہ
اس سے قبل منگل کو پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سہیل آفریدی، بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی مبینہ حراست سے متعلق درخواستیں چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔
عدالت نے یہ فیصلہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے رہنماؤں کے بارے میں مطلوبہ رپورٹیں جمع نہ کرانے کے بعد کیا۔
عدالت نے 20 اکتوبر کو صوبائی حکومت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ واضح کریں کہ آیا متعلقہ سیاست دان زیر حراست ہیں اور اگر ایسا ہے تو انہیں کس قانونی اختیار کے تحت رکھا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا ثناء اللہ خان نے رپورٹیں جمع کرانے کے لیے مزید تین دن کی مہلت طلب کی۔
یہ درخواستیں 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے بعد دائر کی گئی تھیں۔
12 اکتوبر کو ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی تھی کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے، تاہم ان کے مقام سے متعلق معلومات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
عدالت نے تاحال ان رہنماؤں کی حراست کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین نہیں کیا۔
عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں پر تحفظات
بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی بار بار عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کی درخواست کرتی رہی ہے، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے پیر کو وکیل سلمان صفدر کی عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران مختلف مقدمات سے متعلق بات چیت ہوئی۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق اگر یہ ملاقات پہلے کرا دی جاتی تو کئی مسائل پیدا نہ ہوتے۔
سلمان صفدر نے پیر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تقریباً 40 منٹ ملاقات کی تھی۔
وکیل کے مطابق وہ سات ماہ بعد عمران خان اور 11 ماہ بعد بشریٰ بی بی سے ملے تھے، تاہم ملاقات کا دورانیہ تمام زیر التوا مقدمات پر گفتگو کے لیے ناکافی تھا۔
بیرسٹر سیف کے بیانات کی مخالفت
بیرسٹر گوہر نے عمران خان سے ملاقات کی کوششوں سے متعلق پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر محمد علی سیف کے بیانات کی بھی مذمت کی۔
بیرسٹر سیف نے اس سے قبل کہا تھا کہ پارٹی کے بعض رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کے مواقع فراہم کیے گئے تھے، لیکن انہوں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
بیرسٹر گوہر نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے عدالتوں اور دیگر ذرائع سے عمران خان تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی تھیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن حکام کی جانب سے بیرسٹر سیف کو رابطے کے لیے بلایا جاتا ہے، وہ پی ٹی آئی کی دیگر قیادت سے رابطہ کیوں نہیں کرتے۔
ان بیانات سے عمران خان تک رسائی اور سیاسی رابطوں کے طریقہ کار پر پی ٹی آئی کے اندر موجود اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
سیاسی مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے اور سیاسی مسائل کا حل سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اصولی طور پر مذاکرات کی مخالف نہیں رہی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا کے انتظامی معاملات، منتخب نمائندوں کی حراست اور عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر سیاسی اور قانونی اختلافات برقرار ہیں۔
پی ٹی آئی کے لیے عدالتی کارروائی اور سیاسی مذاکرات دو الگ معاملات ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں کا مقصد زیر حراست رہنماؤں کی قانونی حیثیت واضح کرانا ہے، جبکہ مذاکرات کے ذریعے جماعت اور حکومتی حکام کے درمیان اختلافات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
اب پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل پر غور کریں گے۔
منگل کی کارروائی کے دوران زیر حراست رہنماؤں کی رہائی یا انہیں عدالت میں پیش کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔





