پشاور: پاکستان اور افغانستان کی سرحدی فورسز کے درمیان اتوار، یکم نومبر کو مشترکہ سرحد کے متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سرحدی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے۔
جھڑپوں کے باعث ضلع خیبر میں طورخم سرحدی گزرگاہ تقریباً پانچ گھنٹے تک بند رہی، جبکہ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے انگور اڈہ کے قریب مارٹر گولہ باری سے مبینہ طور پر ایک شہری جاں بحق ہو گیا۔
طورخم میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب افغان حکام نے سرحد سے 100 میٹر کے فاصلے کے اندر واقع متنازع زنگلی چیک پوسٹ پر دوبارہ تعمیراتی کام شروع کیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ تعمیرات دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی سابقہ مفاہمت کی خلاف ورزی تھیں، جس کے تحت سرحد کے قریب سکیورٹی تنصیبات کی تعمیر محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
دونوں جانب سے تقریباً ایک گھنٹے تک چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے بعد سرحدی حکام نے ثالثوں کے ذریعے تعمیراتی سرگرمیاں معطل کرنے پر اتفاق کیا۔ اس مفاہمت کے بعد طورخم گزرگاہ دوبارہ کھول دی گئی، تاہم بندش کے دوران غیر دستاویزی افغان شہریوں کی وطن واپسی اور سرحد پر سرکاری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل رہیں۔
زنگلی چیک پوسٹ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا سبب بنتی رہی ہے۔ 19 اکتوبر کو اسی نوعیت کے تنازع کے باعث سرحدی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہوئی تھیں، جبکہ اسی ماہ کے آخر میں تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہونے پر ایک اور تصادم پیش آیا تھا۔
دوسری جانب انگور اڈہ کے قریب صورتحال بدستور غیر یقینی رہی، جہاں جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر نے افغان طالبان فورسز پر پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان سرحدی چوکیوں اور مارٹر پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔ انگور اڈہ کے قریب ایک شہری کی ہلاکت اور سرحد کے دوسری جانب ہونے والے نقصانات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان کا کابل کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے متعلق انتباہ
سرحدی جھڑپوں کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے بیانات بھی سامنے آئے، جن میں انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں جاری رہنے کی صورت میں پاکستان مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
اتوار کو جزوی طور پر نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان سرحد پار سے پیدا ہونے والے خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور افغان طالبان کی عبوری حکومت عسکریت پسند گروہوں کی مسلسل حمایت کے نتائج برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، تاہم افغان طالبان حکام سے توقع رکھتا ہے کہ وہ مسلح تنظیموں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں۔
فوجی ترجمان نے بھارت پر پاکستان کے خلاف سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو ایسی تنظیمیں قرار دیا جنہیں ان کے بقول نئی دہلی کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عسکریت پسند تنظیموں کے زیر استعمال ڈرون ٹیکنالوجی بیرونی سرپرستوں کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم انٹرویو میں ان الزامات کے حق میں ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس کی آزادانہ تصدیق کی جا سکتی ہو۔
واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کا اعتراف
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں سے متعلق پاکستان کے خدشات کو تسلیم کیا۔
روبیو نے کہا کہ واشنگٹن دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے، خواہ وہ کسی بھی علاقے سے ہو، اور پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سکیورٹی خدشات سے آگاہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ محدود تعلقات کے باوجود امریکا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے بیانات سے ظاہر ہوا کہ واشنگٹن سرحد پار عسکریت پسندی سے متعلق پاکستان کے خدشات کو اہمیت دے رہا ہے، تاہم ان کے بیان کو پاکستانی فوجی حکام کی جانب سے عائد کیے گئے تمام الزامات کی توثیق نہیں سمجھا جا سکتا۔
سرحدی تنازعات پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں رکاوٹ
حالیہ تصادم پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں دو حل طلب معاملات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان میں سرحدی انتظامات سے متعلق اختلافات اور افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد کے مطالبات شامل ہیں۔
پاکستان تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن کو اپنی بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے، جبکہ طالبان انتظامیہ سمیت افغانستان کی مختلف حکومتیں تاریخی طور پر اس کی قانونی حیثیت پر اختلاف کرتی رہی ہیں۔
اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کابل پر تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم افغان حکام مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان مختلف اوقات میں مسلح جھڑپیں، سرحدی بندشیں اور مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ادوار سامنے آ چکے ہیں، جبکہ ماضی میں جنگ بندی کے انتظامات بھی عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں اور سرحدی کنٹرول سے متعلق اختلافات حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کی اہم گزرگاہ ہے۔ اس کی بندش سرحدی آبادیوں، وطن واپس جانے والے افغان شہریوں اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔
اگرچہ تعمیراتی کام معطل کرنے کے معاہدے کے بعد طورخم پر سرگرمیاں بحال ہو گئیں، تاہم انگور اڈہ کے قریب جاری جھڑپوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی سطح پر ہونے والے انتظامات وسیع تر سرحدی تنازعات کے حل کے لیے کافی ثابت نہیں ہو رہے۔
واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر آمادگی دونوں ممالک کے لیے ایک اضافی سفارتی راستہ فراہم کر سکتی ہے، تاہم امریکا نے تاحال کسی باضابطہ ثالثی اقدام یا اسلام آباد اور کابل کے درمیان کسی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔





