اسلام آباد: پاکستان براق نامی مصنوعی ذہانت کا لینگویج ماڈل تیار کررہا ہے۔ حکومت کا مقصد اردو اور علاقائی زبانوں میں ڈیجیٹل خدمات تک رسائی بہتر بنانا اور ملک کے اندر ڈیٹا پراسیسنگ کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے سیول میں گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ کے دوران عالمی بینک کے زیر اہتمام نشست میں منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔
وزارت کے 21 اکتوبر کے بیان کے مطابق براق ایک وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے، جس میں قومی اے آئی انفراسٹرکچر اور مقامی زبانوں کی صلاحیت شامل ہے۔
یہ اعلان ایک زیر تیاری منصوبے کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ موجودہ اے آئی چیٹ بوٹس کا پاکستانی متبادل عوام کے استعمال کے لیے تیار ہوچکا ہے۔
براق اصل میں کیا ہے؟
براق کو لارج لینگویج ماڈل، یعنی ایل ایل ایم، کہا گیا ہے۔ یہ ایسا سافٹ ویئر ہوتا ہے جو زبان کے بڑے ذخیرے سے انداز اور تعلق سیکھ کر جواب تیار کرتا ہے۔
اس نوعیت کے ماڈل سوالات کے جواب دینے، دستاویزات کا خلاصہ بنانے، ترجمہ کرنے اور تحریر تیار کرنے والی ایپلی کیشنز میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
لینگویج ماڈل لازماً ایک مکمل چیٹ بوٹ نہیں ہوتا؛ یہ کسی ویب سائٹ، ایپ یا ادارہ جاتی نظام کے پیچھے کام کرنے والی ٹیکنالوجی بھی ہوسکتا ہے۔
براق کے معاملے میں یہ ممکنہ استعمال ہیں، تصدیق شدہ سہولتوں کی فہرست نہیں۔ اعلان سے متعلق رپورٹنگ کے مطابق عوامی اجرا کی تاریخ اور تفصیلی تکنیکی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
اردو اور علاقائی زبانیں کیوں اہم ہیں؟
اس منصوبے کا عملی فائدہ شہریوں اور ڈیجیٹل خدمات کے درمیان زبان کی رکاوٹ کم کرنا ہوسکتا ہے۔ کسی درخواست، سرکاری اسکیم یا دستاویز کو سمجھنے کے لیے شہری کا انگریزی میں مہارت رکھنا ضروری نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم مقامی زبان کی مؤثر اے آئی صرف انگریزی جملوں کا ترجمہ کرنے سے تیار نہیں ہوتی۔ اس کی جانچ میں درست زبان، سیاق و سباق، مقامی اصطلاحات، علاقائی فرق اور روزمرہ کی اردو انگریزی آمیز گفتگو کو سمجھنے کی صلاحیت دیکھنا ہوگی۔
حکومت نے معاونت حاصل کرنے والی علاقائی زبانوں کی تفصیلی فہرست یا براق کی کارکردگی کے آزادانہ جانچ کے قابل نتائج جاری نہیں کیے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اسے ابتدا سے تربیت دی جارہی ہے یا کسی موجودہ ماڈل کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا جارہا ہے۔
نادرا، راست اور سرکاری ریکارڈ کا کیا تعلق ہے؟
وزیر آئی ٹی نے اے آئی پر مبنی سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل شناخت، ادائیگیوں اور محفوظ معلوماتی تبادلے سے جوڑا۔ اس خاکے میں نادرا شناخت، راست ادائیگیوں اور وصل اداروں کے درمیان مجاز معلومات کے تبادلے کا کردار ادا کریں گے۔
یہ الگ ذمہ داریاں ہیں۔ لینگویج ماڈل کسی امدادی اسکیم میں درخواست دینے کا طریقہ سمجھا سکتا ہے، لیکن شناخت کی تصدیق، اہلیت کا فیصلہ اور رقم منتقل کرنے کے لیے الگ نظام اور قانونی اختیار درکار ہوتے ہیں۔
ان سہولتوں کا ایک ساتھ ذکر ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ براق شہریوں کے ریکارڈ سے منسلک ہوچکا ہے یا ادائیگی منظور کرسکتا ہے۔
عالمی بینک نے مارچ 2024 میں پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ کے لیے سات کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر منظور کیے تھے۔ یہ وسیع تر ڈیجیٹل خدمات کا منصوبہ ہے؛ اس پوری رقم کو براق کا الگ بجٹ قرار نہیں دینا چاہیے۔
کیا ملک کے اندر ڈیٹا رکھنا اسے محفوظ بنادے گا؟
مقامی کمپیوٹنگ سے اداروں کو اس بات پر زیادہ اختیار مل سکتا ہے کہ معلومات کہاں پراسیس ہوں۔ تاہم اس سے خود بخود رازداری، سائبر تحفظ یا غیر ملکی ہارڈویئر اور سافٹ ویئر سے مکمل آزادی ثابت نہیں ہوتی۔
تحفظ کا انحصار رسائی کی پابندیوں، سکیورٹی جانچ، معلومات محفوظ رکھنے کی مدت اور جواب دہی پر ہوگا۔ صارف کے سوال کا جواب تیار کرنا اور اسی سوال کو ماڈل کی تربیت میں استعمال کرنا بھی الگ معاملات ہیں۔
وزارت آئی ٹی کی پالیسی فہرست میں نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026 اب بھی مسودے کے طور پر درج ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے اگست میں بتایا تھا کہ حتمی شکل دینے سے پہلے مشاورتی تجاویز شامل کی جائیں گی۔ اس لیے تمام مجوزہ تحفظات کو پہلے سے نافذ قانونی ضمانتیں نہیں سمجھنا چاہیے۔
کامیابی کا پیمانہ کیا ہوگا؟
دوسرے لینگویج ماڈلز کی طرح براق میں بھی پراعتماد مگر غلط جوابات کی جانچ ضروری ہوگی۔ اے آئی کی اصطلاح میں انہیں ہیلوسینیشنز کہا جاتا ہے۔ رواں زبان میں جواب دینا درست معلومات کی ضمانت نہیں۔
قابل اعتماد اجرا کے لیے ڈویلپرز، تربیتی ڈیٹا، مختلف زبانوں میں کارکردگی، اخراجات اور غلطیوں کے ازالے کا طریقہ واضح ہونا چاہیے۔
براق کی اصل افادیت شہریوں کو ان کی زبان میں قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا ہوگی۔ اس کا فیصلہ قومی نام کے بجائے عملی کارکردگی اور مؤثر تحفظات سے ہوگا۔





