کراچی: کراچی کے مختلف علاقوں میں منگل، 3 نومبر کو گیس کی قلت اور کم پریشر کے باعث شہریوں کو کھانا پکانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر گیس کی فراہمی کے متضاد شیڈول گردش کرنے سے صارفین میں الجھن پیدا ہوئی، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کو گیس کی بندش سے متعلق بروقت معلومات فراہم نہ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
گیس کی فراہمی میں تعطل سے شہر کے متعدد علاقے متاثر ہوئے، جن میں گلشنِ اقبال، لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، گلستانِ جوہر، ملیر، کورنگی، لانڈھی، اورنگی ٹاؤن، لیاری، صدر، ڈی ایچ اے اور کلفٹن شامل ہیں۔
شہریوں کے مطابق ناشتے اور رات کے کھانے کے اوقات میں گیس دستیاب نہیں تھی، حالانکہ اس سے قبل یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کھانا پکانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس فراہم کی جائے گی۔
بعض صارفین نے بتایا کہ گیس کی فراہمی بحال ہونے کے باوجود پریشر اتنا کم تھا کہ چولہے جلانا ممکن نہیں تھا۔
یہ شکایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کراچی کے شہری گزشتہ کئی برسوں سے گیس کی غیر اعلانیہ بندش اور فراہمی میں تعطل کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہر میں مسلسل 24 گھنٹے گیس کی فراہمی کے بجائے صارفین کا انحصار مخصوص اوقات میں دستیاب گیس پر بڑھ گیا ہے۔
ایس ایس جی سی نے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری کر دیا
منگل کو شہریوں کی شکایات کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی نے بدھ، 4 نومبر کو سندھ اور بلوچستان کے گھریلو صارفین کے لیے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری کیا۔
کمپنی کے مطابق گھریلو صارفین کو روزانہ تین مختلف اوقات میں مجموعی طور پر آٹھ گھنٹے گیس فراہم کی جائے گی۔
کھانے کا وقت | گیس کی فراہمی کے اوقات |
|---|---|
ناشتہ | صبح 6:30 سے 9 بجے تک |
دوپہر کا کھانا | دوپہر 12 سے 2:30 بجے تک |
رات کا کھانا | شام 6 سے رات 9 بجے تک |
ایس ایس جی سی کے مطابق یہ شیڈول وفاقی حکومت کی ہدایات پر موسمِ سرما میں گیس کی طلب کو منظم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جس میں گھریلو صارفین کی کھانا پکانے کی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے۔
یہ اعلان پیر سے سوشل میڈیا پر ایس ایس جی سی سے منسوب مختلف شیڈول گردش کرنے کے بعد سامنے آیا۔
صارفین نے شکایت کی تھی کہ کمپنی کی جانب سے گیس کی فراہمی کے اوقات سے متعلق کوئی واضح اور یکساں شیڈول جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث گھریلو صارفین کو یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کھانا پکانے کے لیے گیس کب دستیاب ہوگی۔
گیس کی بندش سے شہریوں کے روزمرہ معمولات متاثر
گیس کی قلت کے باعث گھروں میں کھانا پکانے کا عمل متاثر ہوا، جبکہ شہریوں کے مطابق انہیں ہوٹلوں، سڑک کنارے قائم کھانے پینے کے مراکز اور تندوروں سے کھانا خریدنا پڑا۔
اخبار ڈان کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں صارفین نے بتایا کہ مقررہ اوقات کا انتظار کرنے کے باوجود وہ کھانا تیار نہیں کر سکے۔
اس صورت حال سے اسکول جانے والے بچے، بزرگ افراد اور ایسے شہری بھی متاثر ہوئے جنہیں مخصوص اوقات میں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
شہریوں نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جسے بعض گھرانے پائپ لائن سے گیس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
روزانہ کی آمدن پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے تیار کھانا یا متبادل ایندھن خریدنے سے گھریلو اخراجات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
صارفین نے گیس کی بندش سے قبل اطلاع نہ دینے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر فراہمی کے اوقات میں تبدیلی کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جائے تو وہ کھانا پکانے سمیت اپنے گھریلو معمولات کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔
کراچی میں گیس کی قلت کیوں ہوتی ہے؟
کراچی میں گیس کی فراہمی کے مسائل پاکستان میں قدرتی گیس کی پیداوار اور کھپت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کا حصہ ہیں۔
ملک میں گیس کے مقامی ذخائر سے پیداوار میں کمی آ رہی ہے، جبکہ گھریلو صارفین، کاروباری اداروں اور صنعتوں کی طلب دستیاب گیس پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔
اگست 2025 میں سینیٹ میں جمع کرائے گئے ایک جواب میں وفاقی حکومت نے بتایا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کو فراہم کی جانے والی گیس کی مقدار مالی سال 2019-20 میں یومیہ ایک ارب 8 کروڑ 30 لاکھ مکعب فٹ سے کم ہو کر مالی سال 2023-24 میں 71 کروڑ مکعب فٹ رہ گئی تھی۔
اس عرصے کے دوران گیس کی فراہمی میں تقریباً 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
حکومت نے بھی تسلیم کیا تھا کہ بڑھتی ہوئی طلب اور مقامی پیداوار میں کمی کے باعث گیس کی دستیابی اور ضرورت کے درمیان فرق میں اضافہ ہوا ہے۔
موسمِ سرما میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ گھروں میں کھانا پکانے کے علاوہ کمروں اور پانی کو گرم کرنے کے لیے بھی گیس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
اسی وجہ سے گیس تقسیم کرنے والی کمپنیاں دستیاب مقدار کو صارفین تک پہنچانے کے لیے مخصوص اوقات میں فراہمی کا نظام اختیار کرتی ہیں۔
تاہم گیس کی محدود دستیابی ہی واحد مسئلہ نہیں ہے۔ صارفین گیس کے پریشر، بندش کے اوقات اور کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی درستگی پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
گیس کی فراہمی سے متعلق معلومات اور جواب دہی پر سوالات
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے متضاد شیڈول نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ گیس کی فراہمی سے متعلق معلومات صارفین تک کس طرح پہنچائی جاتی ہیں۔
ایس ایس جی سی اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے غیر مصدقہ شیڈول مسترد کر چکی ہے اور صارفین کو ہدایت کرتی رہی ہے کہ وہ صرف کمپنی کے باضابطہ ذرائع سے جاری ہونے والے اعلانات پر انحصار کریں۔
اب کمپنی کے سامنے یہ ذمہ داری ہے کہ اعلان کردہ اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائے اور کسی بھی تعطل کی صورت میں شہریوں کو بروقت آگاہ کرے۔
موسمِ سرما کے لیے جاری کردہ شیڈول سے اگرچہ گیس کی فراہمی کے اوقات واضح ہو گئے ہیں، تاہم منگل کو سامنے آنے والی شکایات ظاہر کرتی ہیں کہ مقررہ اوقات میں گیس کی دستیابی لازمی طور پر مناسب پریشر یا بلاتعطل فراہمی کی ضمانت نہیں ہے۔
گیس کی قلت کے گھریلو بجٹ پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں، خصوصاً جب خاندانوں کو کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی یا بازار سے تیار کھانا خریدنا پڑے۔
صارفین کے لیے فوری مسئلہ یہ ہے کہ آیا ایس ایس جی سی اعلان کردہ اوقات میں گیس کی فراہمی برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔
طویل مدت میں صورت حال کی بہتری کا انحصار گیس کی طلب اور دستیابی کے درمیان فرق کم کرنے، تقسیم کے نظام کی دیکھ بھال اور ایس ایس جی سی اور صارفین کے درمیان معلومات کی فراہمی کے مؤثر نظام پر ہوگا۔





