گلگت: گلگت بلتستان پولیس نے کہا ہے کہ دیامر اور غذر اضلاع کے درمیان قائم ایک عارضی پولیس چیک پوسٹ پر مسلح حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق ہفتے کو تقریباً نو حملہ آوروں نے سرگاہ نالہ چیک پوسٹ پر تعینات پولیس پارٹی پر فائرنگ کی۔ یہ چیک پوسٹ سنگل پولیس سٹیشن کی حدود میں اور غذر و دیامر کے درمیان واقع ہے۔
پولیس نے حملہ آوروں کو دہشت گرد قرار دیا، تاہم خبر شائع ہونے تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔
پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے میں تمام اہلکار محفوظ رہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور دشوار گزار پہاڑی علاقے اور اپنی بلند پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ پولیس نے حملہ آوروں کے کسی جانی نقصان یا گرفتاری کی اطلاع نہیں دی۔
حکام اب پولیس پارٹی کو زیادہ محفوظ اور دفاعی لحاظ سے موزوں مقام پر منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ چیک پوسٹ کو اضافی نفری، رسد اور ضروری سازوسامان بھی فراہم کیا جائے گا۔
پولیس نے کہا کہ ضلعی سطح پر صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ شہریوں سے مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کی اپیل بھی کی گئی۔
یہ واقعہ خطے میں پولیس پر ہونے والے گزشتہ حملوں کے بعد پیش آیا ہے۔
اپریل میں چلاس کے قریب تھور ویلی میں پولیس ٹیم پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں تین اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے بعد میں عسکریت پسند حملوں سے متعلق تلاشی کی کارروائی کے دوران 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
اسی ماہ گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا نام تبدیل کر کے کاؤنٹر ٹیررازم یونٹ رکھنے اور مزید 600 اہلکار بھرتی کرنے کی منظوری دی تھی۔
تازہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں قائم دور دراز پولیس چوکیوں کے تحفظ کا مسئلہ دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔





