پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے ایک ایسی بیماری کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے جس پر دنیا کے بیشتر ممالک قابو پا چکے ہیں۔ لاکھوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں، اربوں روپے اور بین الاقوامی وسائل خرچ کیے گئے ہیں اور یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پولیو کے خاتمے کو قومی ترجیح قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس کی مقامی منتقلی آج بھی جاری ہے۔
یہ صورتحال ایک اہم تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان دشوار گزار علاقوں میں ویکسینیشن مہمات چلانے، لاکھوں ہیلتھ ورکرز کو متحرک کرنے اور بیماری کی نگرانی کا وسیع نظام قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وائرس ایسے بچوں تک پہنچ رہا ہے جو مؤثر حفاظتی اقدامات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
عالمی یومِ پولیو پر سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان اس بیماری کو ختم کیوں نہیں کر سکا، بلکہ یہ بھی ہے کہ پولیو کا مسلسل پھیلاؤ ملک کے صحت عامہ کے نظام، سکیورٹی صورتحال اور ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے۔
پولیو کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟
پولیومائلائٹس، جسے عام طور پر پولیو کہا جاتا ہے، ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بالخصوص پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔
یہ وائرس زیادہ تر آلودہ پانی، ناقص صفائی اور متاثرہ افراد کے فضلے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں صاف پانی اور نکاسی آب کی مناسب سہولیات موجود نہ ہوں، وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
پولیو سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ بعض افراد کو بخار، تھکن، سر درد یا معدے کی شکایات ہو سکتی ہیں۔ تاہم کچھ کیسز میں وائرس اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے اور مستقل معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ عمل چند گھنٹوں میں پیش آتا ہے۔ اگر سانس لینے والے عضلات متاثر ہو جائیں تو بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
پولیو کے باعث ہونے والے مستقل فالج کا کوئی علاج موجود نہیں۔ بحالی کے اقدامات اور طبی معاونت سے متاثرہ افراد کی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے، لیکن بیماری سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ویکسینیشن ہے۔
یہاں ایک اہم پہلو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی علاقے میں پولیو سے معذوری کا کوئی کیس سامنے نہ آنے کا مطلب یہ نہیں کہ وائرس وہاں موجود نہیں۔
وائرس ایسے افراد میں بھی گردش کر سکتا ہے جن میں بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیوریج کے پانی کے نمونوں کی جانچ پولیو کی نگرانی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
سیوریج کے کسی نمونے میں وائرس کی موجودگی پولیو سے معذوری کے تصدیق شدہ کیس کے برابر نہیں، بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائرس آبادی میں گردش کر رہا ہے اور غیر محفوظ بچے اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
تین دہائیوں کی جدوجہد اور خاتمے کا مشکل مرحلہ
پاکستان نے 1994 میں قومی پولیو کے خاتمے کے پروگرام کا آغاز کیا، جبکہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی مہم 1988 میں شروع ہوئی تھی۔
اس وقت پاکستان میں سالانہ تقریباً 20000 پولیو کیسز سامنے آتے تھے۔ اس کے مقابلے میں 2025 میں ملک بھر سے 31 کیسز رپورٹ ہوئے۔
یہ کمی معمولی کامیابی نہیں۔ اس کے پیچھے مسلسل ویکسینیشن، بیماری کی بہتر نگرانی، بین الاقوامی تعاون اور ہزاروں فرنٹ لائن ورکرز کی محنت شامل ہے۔
تاہم پولیو کے مکمل خاتمے کا آخری مرحلہ سب سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
24 اکتوبر 2026 تک پاکستان میں رواں سال پولیو وائرس کے سات کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں پانچ خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے۔
تازہ ترین کیس کا اعلان 19 اکتوبر کو کیا گیا، جب کراچی کے ضلع شرقی میں چھ ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ دسمبر 2024 کے بعد کراچی میں سامنے آنے والا یہ پہلا کیس تھا۔
اگرچہ مجموعی تعداد گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن کیسز کی جغرافیائی تقسیم اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔
جنوبی خیبرپختونخوا اور کراچی میں پولیو کے پھیلاؤ کے عوامل مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں بدامنی، دشوار گزار راستے اور آبادی تک محدود رسائی ویکسینیشن مہمات کو متاثر کرتی ہے، جبکہ کراچی جیسے بڑے شہری مراکز میں آبادی کی مسلسل نقل و حرکت، گنجان آباد بستیاں اور حفاظتی ٹیکوں کی غیر مساوی رسائی اہم مسائل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں کو بھی پولیو کی منتقلی کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔
دونوں ممالک وبائی امراض کے تناظر میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس لیے ایک ملک میں پولیو کا مستقل خاتمہ دوسرے ملک میں مؤثر اقدامات کے بغیر مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے خطے میں مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جہاں کئی دہائیوں سے تنازعات، نقل مکانی، بے گھری اور سرحدی پابندیاں معمول کا حصہ رہی ہیں۔
وائرس قومی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتا، لیکن اس کے خلاف اقدامات قومی اداروں، دوطرفہ تعاون اور متاثرہ آبادیوں تک رسائی پر منحصر ہوتے ہیں۔
پولیو مہمات اور بدامنی کا تعلق
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مشکلات کو ملک کی سکیورٹی صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
گزشتہ کئی برسوں کے دوران شدت پسند تنظیموں نے خصوصاً خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
ان حملوں نے نہ صرف ویکسینیشن مہمات میں خلل ڈالا بلکہ بعض علاقوں میں بچوں تک رسائی بھی محدود کر دی۔
پولیو ویکسین کے خلاف پروپیگنڈے میں مختلف دعوے کیے گئے۔ کہیں اسے غیر ملکی سازش قرار دیا گیا، کہیں بانجھ پن سے متعلق بے بنیاد خدشات پھیلائے گئے اور کہیں مذہبی بنیادوں پر اس کی مخالفت کی گئی۔
یہ دعوے طبی شواہد اور مذہبی علما کی جانب سے ویکسینیشن کی حمایت کے باوجود بعض حلقوں میں اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔
تاہم عوامی عدم اعتماد کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے 2011 کے ایبٹ آباد واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی سے قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے چلائی گئی ایک مبینہ ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن مہم کو انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
اس کا مقصد ڈی این اے شواہد حاصل کرنا تھا۔
یہ پولیو کی باقاعدہ مہم نہیں تھی، لیکن اس واقعے کے اثرات دیگر حفاظتی ٹیکوں کی مہمات تک بھی پہنچے۔
طبی خدمات کو خفیہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ویکسینیشن پر عوامی اعتماد متاثر ہوا اور شدت پسند گروہوں کو پہلے سے موجود شکوک و شبہات کو مزید ہوا دینے کا موقع ملا۔
بعد کی تحقیق میں بھی اس واقعے کے نتیجے میں بعض علاقوں میں ویکسینیشن کی شرح متاثر ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
یہ واقعہ ایک اہم سبق فراہم کرتا ہے کہ انسانی فلاح اور طبی خدمات کی غیر جانبداری کو نقصان پہنچانے کے نتائج طویل المدت ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس واقعے کو ویکسین کے خلاف غلط معلومات یا صحت کے کارکنوں پر حملوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
2012 میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے بعض علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے پولیو مہمات پر پابندیوں کے باعث بڑی تعداد میں بچے ویکسینیشن سے محروم ہوئے۔
اسی سال پولیو ورکرز پر مہلک حملوں نے پاکستان کی انسداد پولیو مہم کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا۔
یہ خطرہ آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اپریل 2026 میں پاکستان کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ویکسینیشن ٹیموں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی مذمت کی تھی۔
ان حالات میں پولیو ورکرز کی ذمہ داری صرف بچوں کو قطرے پلانے تک محدود نہیں رہتی۔
انہیں مختلف علاقوں میں گھر گھر جانا پڑتا ہے، والدین کے خدشات دور کرنا ہوتے ہیں، مقامی سطح پر اعتماد قائم کرنا پڑتا ہے اور بعض مقامات پر مسلح حفاظت میں کام کرنا پڑتا ہے۔
خواتین ہیلتھ ورکرز کا کردار خصوصاً اہم ہے کیونکہ وہ ایسے گھرانوں تک بھی رسائی حاصل کر سکتی ہیں جہاں سماجی روایات کے باعث مرد کارکنوں کا داخلہ محدود ہوتا ہے۔
یوں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ان کا کردار ویکسین دینے کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد قائم کرنے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
کیا مسئلہ صرف ویکسین سے انکار ہے؟
پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر گفتگو اکثر والدین کے ویکسین سے انکار تک محدود ہو جاتی ہے، حالانکہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
بعض بچے اس لیے ویکسینیشن سے محروم رہ جاتے ہیں کہ ان کے خاندان مسلسل نقل مکانی کرتے ہیں۔ کچھ دور دراز علاقوں یا غیر رسمی بستیوں میں رہتے ہیں جہاں صحت کی بنیادی سہولیات ناکافی ہیں۔
دوسری جانب بدامنی، غذائی قلت، ناقص صفائی اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے نظام میں کمزوریاں بھی بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ مسائل ایک دوسرے سے الگ نہیں۔
جس خاندان کو صاف پانی میسر نہیں، اس کے بچوں کو آلودہ ماحول سے پھیلنے والی بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔
غذائی قلت بچوں کے مدافعتی ردعمل کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ تنازعات یا معاشی مشکلات کے باعث نقل مکانی کرنے والے خاندان ویکسینیشن کے موجودہ ریکارڈ اور نظام سے باہر رہ سکتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں تک حفاظتی اقدامات کی رسائی بھی اکثر غیر مستقل ہوتی ہے۔
پالیسی سازی میں ان وجوہات کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔
جہاں والدین ویکسین سے انکار کرتے ہیں، وہاں اعتماد سازی اور مقامی سطح پر مؤثر رابطے کی ضرورت ہے۔
جہاں رسائی کا مسئلہ ہے، وہاں سکیورٹی انتظامات، موبائل ٹیمیں اور آبادی کی بہتر نشاندہی اہم ہیں۔
اور جہاں معمول کی ویکسینیشن کمزور ہے، وہاں صرف خصوصی مہمات دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتیں۔
پاکستان میں سیوریج کے نمونوں کی جانچ، وائرس کے جینیاتی تجزیے اور اچانک فالج کے مشتبہ کیسز کی نگرانی کے ذریعے وائرس کی منتقلی کا سراغ لگایا جاتا ہے۔
تاہم نگرانی کا نظام وائرس کی موجودگی کی نشاندہی تو کر سکتا ہے، لیکن ان حالات کو خود ختم نہیں کر سکتا جو اس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
بچوں کو بار بار پولیو کے قطرے کیوں پلائے جاتے ہیں؟
پولیو ویکسینیشن سے متعلق ایک عام سوال یہ ہے کہ جن بچوں کو پہلے کئی مرتبہ قطرے پلائے جا چکے ہیں، انہیں دوبارہ ویکسین دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کے لیے دو بنیادی اقسام کی ویکسین استعمال ہوتی ہیں۔
ایک منہ کے ذریعے دی جانے والی اورل پولیو ویکسین ہے، جبکہ دوسری انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی اِن ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین ہے۔
اورل ویکسین آنتوں میں مدافعت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے، جہاں پولیو وائرس افزائش پاتا ہے۔ اس طرح یہ وائرس کی منتقلی محدود کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین پولیو سے ہونے والے فالج کے خلاف مضبوط تحفظ فراہم کرتی ہے۔
بار بار ویکسین دینے کا مقصد بچوں میں مؤثر مدافعت پیدا کرنا اور ان کمیونٹیز میں وائرس کی منتقلی روکنا ہے جہاں غیر محفوظ بچوں کی موجودگی اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
یہاں ویکسین کے بارے میں درست طبی معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
اورل پولیو ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے، تاہم انتہائی کم شرح میں، خصوصاً ان آبادیوں میں جہاں ویکسینیشن کی شرح بہت کم ہو، ویکسین میں موجود کمزور وائرس طویل عرصے تک گردش کرنے کے بعد تبدیل ہو سکتا ہے اور ویکسین سے ماخوذ پولیو وائرس کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
یہ وائرس اس وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون سے مختلف ہے جس کی مقامی منتقلی پاکستان میں اب بھی جاری ہے۔
اس نادر خطرے کی موجودگی ویکسین کے مجموعی فوائد کو کم نہیں کرتی، لیکن یہ واضح کرتی ہے کہ عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے خدشات کا جواب مستند طبی معلومات سے دینا ضروری ہے۔
پولیو کا خاتمہ اور ریاستی ذمہ داری
پاکستان کی انسداد پولیو مہمات نے بڑے پیمانے پر انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
فروری 2026 کی ملک گیر مہم میں تقریباً چار لاکھ فرنٹ لائن ورکرز کو متحرک کیا گیا، جن کا ہدف تقریباً ساڑھے چار کروڑ بچوں تک رسائی تھا۔
اکتوبر میں ہونے والی مہم کے دوران بھی دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی۔
یہ اعداد و شمار پاکستان کی کوششوں کی وسعت ظاہر کرتے ہیں۔
تاہم کسی مہم کی کامیابی کو صرف پلائی گئی خوراکوں کی تعداد سے نہیں جانچا جا سکتا۔
اس کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کتنے بچے بار بار مہمات سے محروم رہتے ہیں، زیادہ خطرے والے علاقوں میں ویکسینیشن کتنی مؤثر ہے اور وائرس کی موجودگی سامنے آنے کے بعد متعلقہ ادارے کتنی تیزی سے اقدامات کرتے ہیں۔
اگست 2026 میں عالمی ادارہ صحت کے جائزے میں پولیو کی منتقلی میں کمی کو تسلیم کیا گیا، لیکن جنوبی خیبرپختونخوا، کراچی اور سرحدی علاقوں میں پروگرام کے معیار اور رسائی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔
یہاں انتظامی سرگرمیوں اور حقیقی نتائج کے درمیان فرق اہم ہو جاتا ہے۔
کسی علاقے میں بار بار مہمات چلانا بذات خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہاں وائرس کی منتقلی رک جائے گی۔
مؤثر حکمت عملی کے لیے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا نظام مضبوط بنانا، صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولیات بہتر کرنا، مقامی سکیورٹی مسائل حل کرنا اور کمیونٹیز کو فیصلہ سازی اور آگاہی کے عمل میں شامل کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ صحت کے کارکن وسیع تر انتظامی اور حکومتی کمزوریوں کا حل اکیلے فراہم نہیں کر سکتے۔
پولیو کے اثرات صرف متاثرہ بچے کی جسمانی معذوری تک محدود نہیں رہتے۔
مستقل فالج خاندانوں پر طویل المدت مالی اور سماجی ذمہ داریاں عائد کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے گھرانوں میں جہاں بحالی کی طبی سہولیات، معاون آلات اور خصوصی یا جامع تعلیم تک رسائی محدود ہو۔
اس کے علاوہ پاکستان میں وائرس کی مسلسل موجودگی کے بین الاقوامی اثرات بھی ہیں، جن میں مسافروں کے لیے ویکسینیشن کی شرائط اور وائرس کے دوسرے ممالک تک منتقل ہونے کا خطرہ شامل ہے۔
اس لیے پولیو کا خاتمہ صرف پاکستان کا داخلی صحت عامہ کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی کوششوں کا بھی اہم حصہ ہے۔
آخری مرحلہ ابھی باقی ہے
دنیا ثابت کر چکی ہے کہ پولیو کا خاتمہ ممکن ہے۔
قدرتی طور پر پائے جانے والے پولیو وائرس کی تین اقسام میں سے دو کا عالمی سطح پر خاتمہ ہو چکا ہے، جبکہ 1988 کے بعد دنیا بھر میں پولیو کیسز میں 99 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔
پاکستان نے بھی اس پیش رفت میں اپنا کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کی جدوجہد ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
اب ضرورت صرف مزید ویکسینیشن مہمات یا سالانہ اہداف کے اعلانات کی نہیں، بلکہ ایسے اقدامات کی ہے جو بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کریں، عوامی اعتماد بحال کریں، فرنٹ لائن ورکرز کو تحفظ فراہم کریں اور ان سماجی و جغرافیائی عدم مساوات کو کم کریں جن کے باعث بچے حفاظتی اقدامات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولیو کے خاتمے کو ایک الگ تھلگ منصوبے کے بجائے صحت عامہ کے مؤثر اور مستقل نظام کا حصہ سمجھا جائے۔
پولیو کا ہر تصدیق شدہ کیس ایک ایسے بچے کی نمائندگی کرتا ہے جس کی زندگی ایک قابلِ انسداد بیماری کے باعث مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ اور ہر وہ بچہ جو ویکسینیشن سے محروم رہ جاتا ہے، ایک ایسی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے جس کے اثرات ایک گھرانے سے آگے تک جا سکتے ہیں۔
عالمی یومِ پولیو پر پاکستان اپنی گزشتہ تین دہائیوں کی پیش رفت کو ضرور تسلیم کر سکتا ہے، لیکن حتمی کامیابی کا پیمانہ نہ مہمات کی تعداد ہوگی اور نہ ہی اعلان کردہ اہداف۔
اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ملک میں کوئی بچہ ایسی بیماری کے باعث عمر بھر کی معذوری کا شکار نہ ہو جس سے بچاؤ ممکن ہے۔
یہ ذمہ داری ابھی پوری ہونا باقی ہے۔





