ایک خاتون کو بار بار بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ ان کے شوہر گھر کے تمام مالی معاملات اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں، ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں کہ وہ کس سے بات کرتی ہیں اور انہیں اپنے گھر والوں سے ملنے سے بھی روکتے ہیں۔ جب وہ اس رویے پر اعتراض کرتی ہیں تو انہیں ناشکری، بدتمیزی یا ضد کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی ہی سوچ اور فیصلوں پر شک کرنے لگتی ہیں۔
ایک دوسرے گھر میں میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے اور شوہر بیوی کو تھپڑ مار دیتا ہے۔ بعد میں وہ معافی مانگتا ہے، اپنے رویے کو غصے کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ خاندان کے افراد خاتون کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو زیادہ نہ بڑھائیں۔ آخر میاں بیوی کے درمیان جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔
دونوں واقعات کی نوعیت مختلف ہے، لیکن دونوں خواتین گھریلو تشدد کا سامنا کر رہی ہو سکتی ہیں۔
پہلی صورت میں نہ جسم پر زخم ہیں، نہ پولیس میں کوئی شکایت درج ہوئی ہے اور نہ ہی تشدد کا کوئی ظاہری ثبوت موجود ہے۔ باہر سے دیکھنے والوں کو یہ شادی بالکل معمول کے مطابق دکھائی دے سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ خود خاتون بھی اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو تشدد کے طور پر پہچان نہ سکیں۔
دوسری صورت میں جسمانی تشدد ہوا ہے، لیکن اسے غصے میں ہونے والی ایک غلطی، وقتی جھگڑے یا گھر کا اندرونی معاملہ قرار دے کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
حالانکہ دونوں صورتوں میں اس رویے کو معمول سمجھ کر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
گھریلو تشدد کا ذکر آتے ہی عموماً ذہن میں مارپیٹ، جسم پر نیل، ہڈیوں کا ٹوٹنا یا شدید جسمانی حملے کا تصور ابھرتا ہے۔ یہ گھریلو تشدد کی انتہائی سنگین صورتیں ہیں اور کوئی ثقافتی روایت، ازدواجی ذمہ داری یا خاندانی اختلاف ان کا جواز نہیں بن سکتا۔ جسمانی تشدد شدید چوٹوں، مستقل معذوری، نفسیاتی صدمے اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
تاہم گھریلو تشدد صرف جسمانی حملے تک محدود نہیں۔ بند دروازوں کے پیچھے دھمکیاں، تذلیل، جنسی جبر، مالی وسائل سے محروم کرنا اور نفسیاتی دباؤ بھی کسی دوسرے فرد پر اختیار قائم رکھنے کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ رویے الگ الگ سامنے آتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں جسمانی تشدد کے ساتھ موجود ہوتے ہیں یا رفتہ رفتہ زیادہ سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض رویے شادی اور خاندانی زندگی سے وابستہ روزمرہ توقعات میں اس قدر رچ بس گئے ہیں کہ ان پر سوال ہی نہیں اٹھایا جاتا۔
امریکہ میں اکتوبر کو گھریلو تشدد سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ موقع ایک ایسے مسئلے پر توجہ دینے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے جو کسی ایک ملک یا معاشرے تک محدود نہیں۔
پاکستان میں، جہاں شادی کو اکثر صرف دو افراد کے بجائے دو خاندانوں کے درمیان تعلق سمجھا جاتا ہے، وہاں سمجھوتے، ذمہ داری اور جبر کے درمیان فرق بعض اوقات دھندلا جاتا ہے۔
اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ گھریلو تشدد کا سامنا کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنے لوگ اسے تشدد کے طور پر پہچانتے ہیں، اور کتنے ایسے ہیں جنہیں تشدد کا سامنا کرنے کے باوجود اسے نظرانداز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
گھریلو تشدد صرف مارپیٹ کا نام نہیں
گھریلو تشدد کو اکثر ایسے رویوں کے مجموعے کے طور پر سمجھا جاتا ہے جن کے ذریعے ایک شخص دوسرے پر طاقت، اختیار اور کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم جسمانی تشدد کا کوئی ایک واقعہ بھی تشدد ہی ہوتا ہے اور اسے محض اس بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بار بار نہیں ہوا۔
تھپڑ مارنا، مکے یا لاتیں مارنا، دھکا دینا، گلا دبانا، کسی کو زبردستی پکڑ کر رکھنا یا جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا، سب جسمانی تشدد کی صورتیں ہیں۔
جسمانی تشدد کی سنگینی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ متاثرہ شخص کے جسم پر زخم نظر آ رہے ہیں یا نہیں۔
ایسا تھپڑ جس کا نشان باقی نہ رہے، پھر بھی جسمانی تشدد ہے۔ اسی طرح بعد میں معافی مانگ لینا، غصے میں قابو کھو دینے کا عذر پیش کرنا یا اسے پہلی اور آخری غلطی قرار دینا، تشدد کو قابل قبول نہیں بنا دیتا۔
نہ ہی جسمانی تشدد کو نظم و ضبط قائم رکھنے، ازدواجی اختیار جتانے یا نافرمانی کی سزا دینے کے نام پر درست قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایسے جواز خاص طور پر خطرناک ہو سکتے ہیں جب ان کی بنیاد پر متاثرہ افراد کو تشدد برداشت کرنے کا مشورہ دیا جائے، یہاں تک کہ صورتحال مزید سنگین ہو جائے۔
بعض جسمانی حملے غیر معمولی طور پر خطرناک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گلا دبانے سے جسم کے اندر شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، چاہے گردن پر کوئی واضح نشان موجود نہ ہو۔ تحقیق کے مطابق قریبی تعلقات میں گلا دبانے کے واقعات مستقبل میں جان لیوا تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک ہیں۔
جسمانی تشدد کے اثرات فوری زخموں تک محدود نہیں رہتے۔ متاثرہ افراد کو مستقل درد، معذوری، خوف، بے چینی اور ڈپریشن کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایسے گھروں میں پرورش پانے والے بچے، جہاں تشدد ہوتا ہو، جذباتی اور نفسیاتی مسائل سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
لیکن تشدد ہمیشہ جسمانی حملے کی صورت میں ہی نہیں ہوتا۔
ذہنی اور نفسیاتی تشدد
ذہنی اور نفسیاتی تشدد میں مسلسل تنقید، تذلیل، دھمکیاں، خوف زدہ کرنا اور کسی شخص کی خود اعتمادی کو جان بوجھ کر کمزور کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
ایک بدسلوکی کرنے والا شریکِ حیات دوسرے کے جذبات کو مسلسل غیر اہم قرار دے سکتا ہے، اسے چھوڑ دینے کی دھمکیاں دے سکتا ہے یا واقعات کو اس انداز میں پیش کر سکتا ہے کہ متاثرہ شخص اپنی یادداشت اور سمجھ بوجھ پر شک کرنے لگے۔
اس آخری رویے کو بعض اوقات گیس لائٹنگ (Gaslighting) کہا جاتا ہے۔
تاہم ہر اختلاف یا کسی واقعے کو مختلف انداز میں یاد کرنا گیس لائٹنگ نہیں ہوتا۔ یہ اصطلاح ایسے مسلسل نفسیاتی ہتھکنڈوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کے ذریعے کسی شخص کو اپنی یادداشت، فیصلوں یا حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پر شک میں مبتلا کیا جائے۔
معاشی تشدد
معاشی تشدد میں ضروری اخراجات کے لیے رقم نہ دینا، شریکِ حیات کو ملازمت سے روکنا، اس کی کمائی پر قبضہ کرنا، بینک اکاؤنٹس تک رسائی محدود کرنا یا اسے جان بوجھ کر مالی طور پر محتاج بنائے رکھنا شامل ہو سکتا ہے۔
ایسے گھرانوں میں جہاں روایتی طور پر ایک ہی فرد مالی معاملات سنبھالتا ہے، معاشی تشدد کی شناخت مشکل ہو سکتی ہے۔
اصل فرق یہ نہیں کہ گھر میں کون کماتا ہے یا پیسے کا انتظام کون کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا مالی اختیارات کو دوسرے فرد کی آزادی، تحفظ یا بنیادی ضروریات محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
جنسی تشدد
جنسی تشدد شادی اور قریبی تعلقات کے اندر بھی ہو سکتا ہے۔
اس میں مرضی کے خلاف جنسی عمل، جنسی تعلق کے لیے دباؤ ڈالنا اور دھمکیوں یا خوف کے ذریعے کسی کو جنسی عمل پر مجبور کرنا شامل ہے۔
شادی رضامندی کی اہمیت ختم نہیں کرتی، اگرچہ ازدواجی تعلقات میں جنسی جرائم کی قانونی حیثیت مختلف ممالک میں مختلف ہے۔
ڈیجیٹل ذرائع سے تشدد
جدید ٹیکنالوجی نے گھریلو تشدد کی نئی صورتوں کو بھی جنم دیا ہے۔
کسی کے فون کی مسلسل نگرانی کرنا، پاس ورڈ مانگنا، رضامندی کے بغیر اس کی لوکیشن معلوم کرنا، نجی تصاویر عام کرنے کی دھمکی دینا یا آن لائن رابطوں پر پابندی لگانا بھی دوسرے فرد کو کنٹرول کرنے کے ذرائع بن سکتے ہیں۔
یہ تمام رویے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بھی ہو سکتے ہیں۔
مثلاً معاشی پابندیوں کا سامنا کرنے والا شخص بیک وقت ذہنی دباؤ، سماجی تنہائی اور جسمانی تشدد کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ بعض تعلقات میں جسمانی تشدد کا خوف ہی دوسرے فرد کو خاموش رکھنے اور اس کے فیصلوں پر اختیار قائم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت بھی قریبی تعلقات میں ہونے والے تشدد کی تعریف میں جسمانی جارحیت، جنسی جبر، نفسیاتی بدسلوکی اور کنٹرول کرنے والے رویوں کو شامل کرتا ہے۔
البتہ ہر اختلاف، مالی پریشانی یا ناخوشگوار ازدواجی تعلق کو تشدد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رشتوں میں اختلافات اور سمجھوتے معمول کا حصہ ہیں۔
فرق وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دھمکی، خوف، جبر، نقصان پہنچانے یا دوسرے شخص کی آزادی محدود کرنے کا رویہ سامنے آئے۔ تاہم جسمانی حملے کو تشدد تسلیم کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس سے پہلے کنٹرول کرنے والے رویوں کا کوئی طویل سلسلہ موجود ہو۔
گھریلو تشدد کی مختلف صورتوں کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی صورت کو معمول سمجھ کر قبول یا نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
دنیا بھر میں گھریلو تشدد کی صورتحال
گھریلو اور ازدواجی تشدد کسی ایک ملک، معاشی طبقے، تعلیمی پس منظر یا ثقافت تک محدود نہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں کی جانب سے نومبر 2025 میں جاری کردہ تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 84 کروڑ خواتین، یعنی ہر تین میں سے تقریباً ایک خاتون، اپنی زندگی میں شریکِ حیات یا قریبی ساتھی کی جانب سے جسمانی یا جنسی تشدد، کسی غیر شریکِ حیات کی جانب سے جنسی تشدد، یا دونوں کا سامنا کر چکی ہیں۔
سن 2000 سے 2023 تک کے اعداد و شمار پر مبنی اس رپورٹ کے مطابق 15 سال یا اس سے زائد عمر کی تقریباً 31 کروڑ 60 لاکھ خواتین نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران اپنے شریکِ حیات یا قریبی ساتھی کی جانب سے جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کیا۔
خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھنے کے باوجود عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں قریبی ساتھی کی جانب سے تشدد کی شرح میں سالانہ اوسطاً صرف 0.2 فیصد کمی آئی۔
یہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں، لیکن گھریلو تشدد کی تمام صورتوں کا احاطہ نہیں کرتے۔
ذہنی اذیت، معاشی پابندیوں اور دوسرے فرد کو کنٹرول کرنے والے رویوں کی مکمل تصویر ان اعداد و شمار میں شامل نہیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ گھریلو تشدد صرف خواتین تک محدود نہیں۔ مرد، بچے، بزرگ اور معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد بھی گھریلو تعلقات میں تشدد، نظرانداز کیے جانے، دھمکیوں اور جبر کا سامنا کر سکتے ہیں۔
تاہم بین الاقوامی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ قریبی تعلقات اور جنسی تشدد کا بوجھ خاص طور پر خواتین پر زیادہ پڑتا ہے۔
اس کے نتائج فوری جسمانی چوٹوں سے کہیں آگے جاتے ہیں۔
تشدد کا سامنا کرنے والے افراد میں ڈپریشن، بے چینی، تولیدی صحت کے مسائل اور دیگر طویل المدتی جسمانی و نفسیاتی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ایسے گھروں میں رہنے والے بچے جہاں تشدد ہوتا ہو، جذباتی اور نشوونما سے متعلق مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔
شدید یا مسلسل جسمانی تشدد کے بعض نتائج ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔ گھریلو تشدد قتل تک بھی پہنچ سکتا ہے، جس سے خطرے کی ابتدائی علامات کو پہچاننا اور بروقت مدد فراہم کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اس لیے گھریلو تشدد محض دو افراد کے تعلقات کا نجی مسئلہ نہیں، بلکہ صحتِ عامہ، انسانی حقوق اور سماجی تحفظ کا ایک اہم معاملہ ہے۔
پاکستان میں گھریلو تشدد: اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
پاکستان میں دستیاب اعداد و شمار ایک تشویش ناک تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم لوگوں کے ساتھ ہونے والے تشدد اور سرکاری طور پر رپورٹ ہونے والے واقعات کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔
پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (PDHS) 2017–18 کے مطابق 15 سے 49 سال کی عمر کی 34 فیصد شادی شدہ یا پہلے شادی شدہ خواتین نے اپنے شوہر کی جانب سے جسمانی، جنسی یا جذباتی تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔
سروے کے مطابق:
- 26 فیصد خواتین نے جذباتی تشدد کا سامنا کیا۔
- 23 فیصد خواتین نے جسمانی تشدد کی اطلاع دی۔
- پانچ فیصد خواتین نے جنسی تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔
اسی سروے کے مطابق 15 سے 49 سال کی عمر کی 28 فیصد خواتین نے 15 سال کی عمر کے بعد کسی نہ کسی وقت جسمانی تشدد کا سامنا کیا، جبکہ چھ فیصد نے جنسی تشدد کی اطلاع دی۔
ان اعداد و شمار کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ تشدد کی مختلف صورتوں اور آبادی کے مختلف گروہوں سے متعلق ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ یہ سروے 2017–18 کا ہے اور اسے 2026 میں گھریلو تشدد کی موجودہ شرح کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
نسبتاً حالیہ سرکاری ریکارڈ ان واقعات کی نشاندہی کرتا ہے جو باقاعدہ رپورٹنگ کے نظام تک پہنچے۔
سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان بھر میں گھریلو تشدد کے 2,238 واقعات رپورٹ ہوئے۔
ان میں پنجاب سے 1,167، خیبر پختونخوا سے 446، سندھ سے 375 اور بلوچستان سے 160 واقعات شامل تھے۔
رپورٹ میں اسلام آباد کے واقعات بھی شامل کیے گئے، تاہم دارالحکومت سے متعلق شائع شدہ تفصیلات میں بعض اعداد و شمار ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
SSDO کے مطابق اس کے زیرِ جائزہ گھریلو تشدد کے مقدمات میں ملک بھر میں سزا سنائے جانے کی شرح 1.3 فیصد رہی۔
تاہم رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد کو گھریلو تشدد کے مجموعی واقعات نہیں سمجھنا چاہیے۔
پولیس ریکارڈ کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کتنے متاثرہ افراد شکایت درج کرواتے ہیں، کتنے واقعات باقاعدہ مقدمات میں تبدیل ہوتے ہیں اور انہیں کس قانونی زمرے میں درج کیا جاتا ہے۔
اسی طرح سروے کے ذریعے معلوم کی جانے والی شرح اور پولیس میں درج مقدمات دو مختلف نوعیت کے اعداد و شمار ہیں۔
یہ فرق اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب خاموشی کے مسئلے کو دیکھا جائے۔
PDHS 2017–18 کے مطابق جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرنے والی 56 فیصد خواتین نے نہ تو مدد حاصل کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی کسی کو اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) پاکستان کے مطابق سماجی و ثقافتی رکاوٹیں، معاشی انحصار، معلومات کی کمی اور معاون خدمات تک محدود رسائی ایسے عوامل ہیں جو متاثرہ افراد کو مدد حاصل کرنے سے روک سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ ہونے والا تشدد کبھی کسی سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنتا۔
جسمانی تشدد کے واقعات میں یہ خاموشی خاص طور پر خطرناک ہو سکتی ہے۔
جب مارپیٹ کے واقعات کو چھپایا جائے، معمولی قرار دیا جائے یا مناسب تحفظ فراہم کیے بغیر غیر رسمی طور پر نمٹا دیا جائے تو متاثرہ افراد مزید تشدد کے خطرے سے دوچار رہ سکتے ہیں۔
شکایات کی کم تعداد کو تشدد کی عدم موجودگی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
جب تشدد کو خاندانی زندگی کا معمول سمجھ لیا جائے
پاکستان میں گھریلو تشدد کو سمجھنے کے لیے اس سماجی ماحول کا جائزہ لینا ضروری ہے جس میں خاندانی اور ازدواجی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
شادی کو اکثر صرف دو افراد کا ذاتی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ سمجھا جاتا ہے جس کے ساتھ والدین، سسرال، بچوں اور دیگر رشتہ داروں کے حوالے سے متعدد ذمہ داریاں وابستہ ہوتی ہیں۔
یہ تعلقات جذباتی اور عملی مدد کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں، لیکن بعض حالات میں خاندانی توقعات متاثرہ افراد پر بدسلوکی چھپانے یا برداشت کرنے کا دباؤ بھی ڈال سکتی ہیں۔
گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والی خاتون کو صبر کرنے، بحث سے گریز کرنے یا بچوں کی خاطر شادی برقرار رکھنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
اسے بتایا جا سکتا ہے کہ ہر گھر میں مسائل ہوتے ہیں، شوہروں کو کبھی کبھار غصہ آ جاتا ہے یا گھر کی بات باہر لے جانے سے خاندان کی بدنامی ہوتی ہے۔
جب معاملہ جسمانی تشدد کا ہو تو ایسے رویوں کے نتائج زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
تھپڑ کو وقتی غلطی، مارپیٹ کو اشتعال کا نتیجہ اور بار بار ہونے والے جسمانی حملوں کو میاں بیوی کا ذاتی معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کہنا کہ اگر خاتون کا رویہ مختلف ہوتا تو اسے مار نہ پڑتی، تشدد کی ذمہ داری کرنے والے شخص کے بجائے متاثرہ فرد پر ڈالنے کے مترادف ہے۔
غصہ، اختلاف یا کسی کی بات ناگوار گزرنا جسمانی تشدد کا جواز نہیں بن سکتا۔
اسی طرح یہ توقع بھی تشویش ناک ہے کہ اگر تشدد کرنے والا شخص معافی مانگ لے تو متاثرہ فرد کو لازماً اسے معاف کر دینا چاہیے۔
معافی بعض حالات میں اہم ہو سکتی ہے، لیکن اس سے تشدد کا واقعہ ختم نہیں ہو جاتا اور نہ ہی تحفظ، جواب دہی اور رویے میں مستقل تبدیلی کی ضرورت ختم ہوتی ہے۔
صبر اور سمجھوتہ صحت مند تعلقات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن جب انہی تصورات کو دھمکیوں، تشدد یا مسلسل تذلیل کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو صورتحال مختلف ہو جاتی ہے۔
معاشی انحصار اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
ایسی خاتون جس کی اپنی آمدنی محدود ہو، مالی وسائل تک رسائی نہ ہو یا جو کئی سال سے ملازمت نہ کر رہی ہو، اس کے لیے تحفظ حاصل کرنا یا تشدد والے ماحول سے نکلنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
بچوں والی خواتین، دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد، معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد اور خاندانی مدد سے محروم لوگوں کے لیے یہ مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
تعلیم اور معاشی حیثیت بھی ضروری نہیں کہ اس مسئلے سے مکمل تحفظ فراہم کریں۔
گھریلو تشدد خوش حال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانوں میں بھی ہو سکتا ہے، جہاں سماجی ساکھ اور بدنامی کا خوف متاثرہ افراد کو خاموش رہنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
تاہم یہ تاثر دینا بھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کے تمام خاندان ایسے رویوں کی حمایت کرتے ہیں یا گھریلو تشدد کی وجہ صرف ثقافت ہے۔
بہت سے خاندان، سماجی تنظیمیں اور مقامی معاون نیٹ ورکس متاثرہ افراد کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خاندان کی ظاہری ساکھ کو کسی فرد کی سلامتی اور عزتِ نفس سے زیادہ اہمیت دی جانے لگے۔
متاثرہ افراد تشدد والے تعلقات سے نکل کیوں نہیں پاتے؟
گھریلو تشدد کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بدسلوکی کرنے والے شریکِ حیات کے ساتھ رہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے یہ رویہ قبول کر لیا ہے۔
یہ سوچ ایسے تعلقات کی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرتی ہے۔
علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ معاشی عدم تحفظ، رہائش کے مسائل، بچوں سے متعلق دھمکیوں، خاندان کی مخالفت یا مزید تشدد کے خوف سے جڑا ہو سکتا ہے۔
بعض متاثرہ افراد کے پاس قانونی مدد یا محفوظ رہائش تک رسائی نہیں ہوتی۔
کچھ لوگ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ جذباتی وابستگی بھی رکھتے ہیں، خاص طور پر جب بدسلوکی کے بعد معافی، محبت یا آئندہ رویہ بہتر بنانے کے وعدے کیے جاتے ہوں۔
تشدد پر مبنی تعلقات میں ہر وقت تلخی یا دشمنی ضروری نہیں ہوتی۔
بعض اوقات محبت اور توجہ کے ادوار کے درمیان دھمکیوں اور بدسلوکی کے واقعات سامنے آتے ہیں، جس سے متاثرہ فرد کے لیے صورتحال کو سمجھنا اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ صورتحال جسمانی تشدد والے تعلقات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
حملے کے بعد تشدد کرنے والا شخص ندامت کا اظہار کر سکتا ہے، یقین دہانیاں کرا سکتا ہے یا وعدہ کر سکتا ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
اس سے متاثرہ فرد کو امید پیدا ہو سکتی ہے کہ تعلقات بہتر ہو جائیں گے، چاہے بنیادی مسئلہ ابھی حل نہ ہوا ہو۔
مسلسل نفسیاتی دباؤ کسی شخص کی خود اعتمادی بھی کمزور کر سکتا ہے، یہاں تک کہ اسے اپنی صلاحیتوں اور آزادانہ زندگی گزارنے کے امکانات پر شک ہونے لگے۔
پاکستان میں سماجی ردعمل کا خوف بھی ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔
علیحدگی اختیار کرنے والی یا طلاق یافتہ خواتین کو اپنے کردار، بچوں کی پرورش اور سمجھوتہ نہ کرنے کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بچوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات بھی تشدد والے تعلقات میں رہنے کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
تاہم ان میں سے کسی بھی وجہ کا مطلب یہ نہیں کہ متاثرہ شخص نے تشدد کو رضامندی سے قبول کیا ہے یا اس کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
اسی طرح علیحدگی ہمیشہ فوری تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتی۔
دھمکیاں، تعاقب، ہراسانی اور بچوں یا جائیداد سے متعلق تنازعات علیحدگی کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں۔
بعض صورتوں میں تعلق ختم کرنے کی کوشش تشدد کرنے والے فرد کی جانب سے مزید ردعمل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، اس لیے محفوظ منصوبہ بندی ضروری ہے۔
مؤثر مدد کا مقصد متاثرہ فرد کو فوری طور پر کوئی مخصوص فیصلہ کرنے پر مجبور کرنا نہیں، بلکہ اس کے حالات، تحفظ اور باخبر انتخاب کو اہمیت دینا ہونا چاہیے۔
وہ غلط فہمیاں جو گھریلو تشدد کو جاری رکھتی ہیں
گھریلو تشدد کے بارے میں غلط فہمیاں صرف متاثرہ افراد تک محدود نہیں۔
خاندان، دوست اور بعض اوقات متعلقہ ادارے بھی ایسے رویوں کو تشدد کے طور پر پہچاننے میں ناکام رہ سکتے ہیں جو تشدد کے روایتی تصور سے مختلف ہوں۔
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ جب تک جسمانی چوٹ نہ لگے، تشدد نہیں ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ نفسیاتی دباؤ، جنسی جبر، معاشی محرومی اور دوسرے شخص کو کنٹرول کرنے والے رویے بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
لیکن اس کے برعکس یہ سوچ بھی نقصان دہ ہے کہ جسمانی حملہ اس وقت تک سنگین نہیں جب تک واضح زخم نہ آئے، بار بار مارپیٹ نہ ہو یا ہسپتال جانے کی نوبت نہ آ جائے۔
ایک تھپڑ بھی جسمانی تشدد ہے۔
کسی کو دھکا دینا، زبردستی پکڑ کر رکھنا یا نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا صرف اس وجہ سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ متاثرہ فرد کو ہسپتال داخل نہیں ہونا پڑا۔
ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ گھریلو تشدد صرف غریب یا کم تعلیم یافتہ گھرانوں میں ہوتا ہے۔
اگرچہ معاشی مشکلات بعض افراد کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہیں اور مدد حاصل کرنے کے مواقع محدود کر سکتی ہیں، لیکن دولت اور تعلیم کسی خاندان کو گھریلو تشدد سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بناتیں۔
تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ تشدد ہمیشہ دوسروں کو نظر آ جاتا ہے۔
بہت سے متاثرہ افراد ملازمت کرتے ہیں، بچوں کی پرورش کرتے ہیں، سماجی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں اور بظاہر معمول کی خاندانی زندگی گزارتے ہیں۔
بدسلوکی کو بعض اوقات معاشرتی طور پر قابل قبول وضاحتوں کے پیچھے بھی چھپا دیا جاتا ہے۔
مسلسل نگرانی کو فکر مندی کہا جاتا ہے۔
ملازمت پر پابندی کو تحفظ کا نام دیا جاتا ہے۔
رشتہ داروں سے دور رکھنے کو خاندانی اختلافات سے بچنے کی کوشش قرار دیا جاتا ہے۔
لیکن فکر مندی اور تحفظ کو جبر کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
فرق اس وقت واضح ہونے لگتا ہے جب ایک شخص اختلاف کرنے کے نتائج سے خوف زدہ ہو، روزمرہ فیصلوں پر اس کا اختیار محدود ہو جائے یا اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے پر اسے مسلسل سزا دی جائے۔
ایک اور نقصان دہ تصور یہ ہے کہ متاثرہ افراد اپنے رویے سے تشدد کو دعوت دیتے ہیں۔
یہ سوچ شکایت درج کروانے کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے اور اس خیال کو مضبوط کرتی ہے کہ آئندہ تشدد روکنے کی ذمہ داری متاثرہ شخص پر ہے۔
اختلافات، بحث اور تعلقات میں مشکلات جسمانی تشدد کا جواز نہیں۔
حملے کی ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوتی ہے جو حملہ کرتا ہے۔
شاید سب سے زیادہ نقصان دہ غلط فہمی یہ ہے کہ گھریلو تشدد ایک نجی معاملہ ہے جس میں دوسروں کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
خاندانی زندگی میں رازداری اہم ہے، لیکن اسے تشدد، دھمکیوں یا بنیادی حقوق سے محرومی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
پاکستان میں قانون کیا تحفظ فراہم کرتا ہے؟
پاکستان میں گھریلو تشدد کے خلاف مختلف قانونی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ان کا اطلاق اور قانونی طریقہ کار مختلف صوبوں اور علاقوں میں الگ ہو سکتا ہے۔
سندھ نے 2013 میں ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ منظور کیا، جبکہ بلوچستان میں 2014 میں اس حوالے سے قانون سازی کی گئی۔
پنجاب میں 2016 میں پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ متعارف کرایا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا میں 2021 میں گھریلو تشدد سے متعلق قانون منظور ہوا۔
جنوری 2026 میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 کا نفاذ ایک اہم پیش رفت تھی۔
خواتین کے تحفظ سے متعلق بعض قوانین کے برعکس اسلام آباد کا قانون متاثرہ افراد کے ایک وسیع دائرے کو تسلیم کرتا ہے، جن میں خواتین، مرد، خواجہ سرا افراد، بچے، بزرگ اور معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد شامل ہیں۔
پنجاب کا 2016 کا قانون گھریلو، جنسی، نفسیاتی اور معاشی تشدد کے ساتھ ساتھ تعاقب اور بعض سائبر جرائم سے متعلق رویوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
اس قانون کے تحت اہل متاثرہ افراد عدالت سے تحفظ، رہائش اور مالی امداد سے متعلق احکامات حاصل کرنے کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔
تحفظ کے احکامات کے ذریعے مبینہ تشدد کرنے والے شخص کے رابطے یا بعض سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
رہائش سے متعلق احکامات متاثرہ فرد کو ازدواجی گھر سے غیر قانونی طور پر نکالے جانے سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ مالی احکامات کے ذریعے تشدد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بعض اخراجات کے لیے امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔
یہ قانونی اقدامات اس لیے اہم ہیں کہ گھریلو تشدد سے تحفظ صرف مجرم کو سزا دینے تک محدود نہیں۔
متاثرہ افراد کو رہائش، مالی مدد، طبی سہولتوں اور قانونی نمائندگی کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔
جسمانی تشدد کے واقعات میں بروقت طبی امداد، زخموں کی مناسب دستاویز بندی اور پولیس تحفظ تک رسائی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
کسی متاثرہ شخص کو مدد حاصل کرنے کے لیے اس وقت تک انتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک تشدد بار بار یا زیادہ شدید نہ ہو جائے۔
تاہم قانون کی موجودگی خودبخود مؤثر تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
پولیس تک رسائی، قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی، تربیت یافتہ عملے کی دستیابی، عدالتی کارروائیوں میں تاخیر اور تحفظ سے متعلق احکامات پر عملی درآمد جیسے عوامل نتائج پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
SSDO کی 2024 کی رپورٹ میں گھریلو تشدد کے مقدمات میں سزا سنائے جانے کی کم شرح اس سوال کو اہم بناتی ہے کہ ایسے مقدمات نظامِ انصاف میں کس حد تک مؤثر انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔
تاہم ان اعداد و شمار کو رپورٹنگ، تفتیش اور مقدمات کے مختلف نتائج کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ انہیں تحفظ کے تمام قانونی طریقہ کار کی مکمل کارکردگی کا پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
متاثرہ افراد کے لیے بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا قانون میں موجود حقوق عملی طور پر بروقت اور مؤثر مدد میں تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں۔
گھریلو تشدد کے متاثرہ افراد کہاں مدد حاصل کر سکتے ہیں؟
اگرچہ بہت سے لوگ ان سہولتوں سے واقف نہیں، پاکستان میں گھریلو تشدد کے متاثرہ افراد کے لیے سرکاری ہیلپ لائنز، کرائسس سینٹرز، قانونی معاونت کی خدمات اور پناہ گاہیں موجود ہیں۔
وزارتِ انسانی حقوق کی قومی ہیلپ لائن 1099 قانونی مشورے، کونسلنگ اور متعلقہ اداروں تک رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
وزارت کی جانب سے واٹس ایپ نمبر 0333-9085709 بھی درج کیا گیا ہے۔
پنجاب ویمن ہیلپ لائن 1043 چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے اور گھریلو تشدد، ہراسانی، امتیازی سلوک اور قانونی حقوق سے متعلق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی ہیلپ لائن 0800-01737 بھی بحران کا سامنا کرنے والی خواتین کو متعلقہ معاون خدمات سے رابطہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
سندھ میں محکمہ ترقیِ نسواں کی ہیلپ لائن 1094 اور لیگل ایڈ سوسائٹی کا نمبر 0800-70806 متاثرہ افراد کے لیے دستیاب معاون خدمات میں شامل ہیں۔
جن افراد کو محفوظ رہائش کی ضرورت ہو، ان کے لیے سرکاری دارالامان اور دیگر تحفظ فراہم کرنے والے مراکز ممکنہ سہارا بن سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین، یو این ویمن، کی پاکستان سے متعلق معلومات میں چاروں صوبوں میں پناہ گاہوں اور معاون خدمات کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر بھی نفسیاتی، قانونی اور طبی معاونت فراہم کرنے والی سہولتیں موجود ہیں۔
پنجاب میں خواتین کے لیے 12 شہید بے نظیر بھٹو ہیومن رائٹس کرائسس سینٹرز بھی قائم ہیں، جن میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان کے مراکز شامل ہیں۔
یہ مراکز تحفظ سے متعلق منصوبہ بندی، نفسیاتی مدد، قانونی رہنمائی اور محفوظ رہائش کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔
اگر کسی شخص کو فوری جسمانی خطرہ لاحق ہو تو ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کرنا یا کسی محفوظ مقام تک پہنچنا ضروری ہو سکتا ہے۔
جسمانی حملے کی صورت میں طبی معائنہ بھی اہم ہو سکتا ہے، چاہے بظاہر زخم نظر نہ آ رہے ہوں، خصوصاً سر، گردن یا گلا دبانے سے متعلق واقعات میں۔
تاہم مختلف علاقوں میں ان خدمات کی دستیابی، اہلیت کی شرائط اور سہولتوں کا معیار مختلف ہو سکتا ہے۔
متاثرہ افراد کو ان کی ضروریات کے مطابق مدد فراہم کی جانی چاہیے، نہ کہ انہیں ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کیا جائے جو ان کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہوں۔
پاکستان میں مدد اور رہنمائی کے اہم رابطے
ادارہ یا سہولت | رابطہ نمبر | معاونت |
|---|---|---|
قومی انسانی حقوق ہیلپ لائن | 1099 | ملک بھر میں قانونی مشورہ، کونسلنگ اور متعلقہ اداروں تک رہنمائی |
پنجاب ویمن ہیلپ لائن | 1043 | گھریلو تشدد اور قانونی معاملات میں 24 گھنٹے رہنمائی |
پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی | 0800-01737 | بحران کی صورت میں مدد اور متعلقہ خدمات تک رسائی |
سندھ ویمن ہیلپ لائن | 1094 | تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے معلومات اور معاونت |
پولیس ایمرجنسی | 15 | فوری خطرے کی صورت میں مدد؛ پنجاب میں ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کی سہولت آپشن 2 کے ذریعے دستیاب ہے |
اشاعت سے قبل متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے ہیلپ لائنز کی فعالیت اور رابطہ نمبروں کی تصدیق ضروری ہے۔
تشدد کی پہچان پہلا قدم ہے، آخری نہیں
گھریلو تشدد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف متاثرہ افراد کو آواز اٹھانے کی ترغیب دینا کافی نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ شکایت کرنے یا مدد مانگنے کے نتیجے میں وہ مزید خطرات سے دوچار نہ ہوں۔
خاندان متاثرہ افراد کی بات بغیر کسی الزام یا تنقید کے سن کر، انہیں قصوروار ٹھہرانے سے گریز کرکے اور محفوظ راستے تلاش کرنے میں مدد دے کر مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جسمانی تشدد کو ازدواجی اختلافات، ذہنی دباؤ یا ثقافتی توقعات کی بنیاد پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کسی حملے کو گھر کا اندرونی معاملہ کہہ کر بھلا دینے کا مشورہ متاثرہ فرد کو مدد حاصل کرنے سے روک سکتا ہے اور مزید تشدد کا راستہ کھول سکتا ہے۔
اسکولوں اور جامعات میں صحت مند تعلقات، رضامندی، ذاتی حدود اور جبر کی ابتدائی علامات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے۔
طبی ماہرین بھی ایسے تشدد کی شناخت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو عام طور پر سامنے نہیں آتا، خصوصاً جب مریض بار بار چوٹوں، بے چینی یا دیگر جسمانی و نفسیاتی مسائل کے ساتھ علاج کے لیے آئیں۔
پولیس اور عدالتی اداروں کو بھی مناسب تربیت اور وسائل کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ افراد کے ساتھ حساس اور مؤثر انداز میں معاملہ کیا جا سکے۔
اسی طرح تحفظ فراہم کرنے والی سہولتوں تک رسائی بڑے شہروں سے باہر بھی ممکن ہونی چاہیے۔
عوامی آگاہی کی مہمات میں اس تصور کو بھی چیلنج کرنا ضروری ہے کہ شادی برقرار رکھنا یا خاندان کی ساکھ بچانا ہر حال میں کسی فرد کی سلامتی سے زیادہ اہم ہے۔
اس کے ساتھ متاثرہ افراد کے فیصلوں اور حالات کا احترام بھی ضروری ہے۔
ہر شخص فوری طور پر تشدد والے تعلقات سے نکلنے کے لیے تیار یا اس قابل نہیں ہوتا۔
مؤثر مدد کے لیے رازداری، باخبر رضامندی اور ہر فرد کو درپیش خطرات کو سمجھنا ضروری ہے۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ معاشرے میں تشدد کو سمجھنے کا انداز تبدیل ہو۔
شادی میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن خوف اور دھمکی کے بغیر۔
مالی ذمہ داریاں تقسیم کی جا سکتی ہیں، لیکن جبر کے بغیر۔
خاندانی فرائض ادا کیے جا سکتے ہیں، لیکن کسی فرد کی عزتِ نفس قربان کیے بغیر۔
سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے، لیکن خوف کے سائے میں نہیں۔
اور کوئی اختلاف، چاہے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، جسمانی تشدد کا جواز نہیں بن سکتا۔
گھریلو تشدد کی پہچان اسی وقت بہتر ہو سکتی ہے جب ان بنیادی فرقوں کو سمجھا جائے۔
طویل عرصے سے گھریلو تشدد کے بارے میں عوامی گفتگو زیادہ تر اس کے نمایاں نتائج تک محدود رہی ہے، یعنی جسمانی زخم، پولیس میں شکایات، علیحدگی اور انتہائی صورتوں میں موت۔
ان نتائج پر فوری توجہ ضروری ہے۔
جسمانی تشدد محض ایک غیر صحت مند تعلق کی علامت نہیں بلکہ کسی شخص کی جسمانی سلامتی اور بعض اوقات اس کی زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
لیکن تشدد ان سنگین نتائج سے بہت پہلے شروع ہو سکتا ہے، اور اس کی ابتدائی علامات ہمیشہ جسمانی نہیں ہوتیں۔
یہ کسی بظاہر معمولی پابندی سے شروع ہو سکتا ہے، کسی ایسے تضحیک آمیز جملے سے جسے بار بار مذاق کہہ کر نظرانداز کیا جائے، یا اطاعت کے ایسے مطالبے سے جسے محبت کا اظہار قرار دیا جائے۔
یہ ایک دھکے یا تھپڑ سے بھی شروع ہو سکتا ہے، جس کے بعد متاثرہ فرد کے اردگرد موجود لوگ اصرار کریں کہ اسے معاف کرکے بھلا دینا چاہیے۔
وقت کے ساتھ ایسے رویے کسی شخص کی آزادی، خود اعتمادی اور احساسِ تحفظ کو کمزور کر سکتے ہیں۔
جہاں جسمانی تشدد موجود ہو، وہاں اس کے نتائج مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔
جسم پر زخموں کا نظر نہ آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔
اور خاموشی کا مطلب بھی ضروری نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔
گھریلو تشدد کو پہچاننے کا مطلب اس تشدد کو بھی تسلیم کرنا ہے جو جسم پر زخم چھوڑتا ہے، اور ان رویوں کو بھی جو بظاہر نظر نہیں آتے لیکن کسی شخص کی زندگی کو مسلسل خوف اور جبر میں مبتلا کر سکتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ مارپیٹ کو غصہ، تذلیل کو تربیت، محرومی کو ذمہ داری اور کنٹرول کو محبت کا نام دے کر درست قرار دینے سے انکار کیا جائے۔
شاید اب سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ اتنے لوگ گھریلو تشدد کی شکایت کیوں نہیں کرتے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتنے لوگوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ تشدد کو پہچانیں ہی نہیں، یا اسے خاندانی زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کر لیں۔





