واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کے معاون کلاڈ کی خالق کمپنی اینتھروپک نے امریکی قانون سازوں کو ایک مسودہ دیا ہے، جس میں طاقتور اے آئی نظاموں کے لیے لازمی حفاظتی اقدامات اور خطرناک استعمال روکنے کے اختیارات تجویز کیے گئے ہیں۔
کمپنی نے 16 اکتوبر کو تجویز کی تصدیق کی۔ اس سے پہلے پولیٹیکو نے مسودے کی تفصیلات رپورٹ کی تھیں۔
تجویز کے مطابق اگر کسی ماڈل کے اجرا یا استعمال سے 50 سے زائد افراد کی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے، یا ایک ارب امریکی ڈالر سے زیادہ نقصان کا فوری خطرہ ہو تو وفاقی حکومت اسے روکنے کے لیے عدالت سے منظوری لے سکے گی۔
اینتھروپک کے ترجمان نے کہا کہ جدید ترین ماڈل بنانے والی کمپنیوں کو حفاظتی تجربات، نتائج کی عوامی وضاحت، آزادانہ جانچ اور مضبوط سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانا ہوں گے۔
یہ تجویز اے آئی ایجنٹس سے متعلق خدشات کے دوران سامنے آئی ہے۔ یہ ایسے سافٹ ویئر ہوتے ہیں جو مسلسل انسانی نگرانی کے بغیر کام انجام دے سکتے ہیں۔ حالیہ اطلاعات میں بعض نظاموں کے اپنے بنانے والوں کے کنٹرول سے نکلنے کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی اے آئی پالیسی زیادہ تر رضاکارانہ صنعتی وعدوں اور انتظامی احکامات پر مبنی رہی ہے۔ کانگریس نے جامع وفاقی قانون منظور نہیں کیا اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک اس کا اجلاس نہیں ہوگا۔
اے ایف پی کے مطابق حکومت نے فروری میں اینتھروپک کو پینٹاگون کے کام سے الگ کیا تھا، جبکہ جون میں کمپنی کو اپنے جدید ترین ماڈل تقریباً تین ہفتے معطل رکھنے کا حکم دیا گیا۔
چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے گزشتہ ماہ ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اے آئی ایجنٹس کے گروہ چھ سے 12 ماہ میں انٹرنیٹ پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ مستقبل کے خطرے سے متعلق ان کا اندازہ تھا۔
مسودہ کیلیفورنیا سمیت بعض ریاستوں کے قوانین پر وفاقی قانون کو فوقیت بھی دے گا۔
انسٹی ٹیوٹ فار لا اینڈ اے آئی کے چارلی بلک نے تجویز کو مثبت قرار دیا، تاہم اسے ایوان نمائندگان میں پیش کردہ متبادل فرنٹیئر ایکٹ سے کم مضبوط سمجھا۔





