بنکاک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے نومبر تک کے لیے توانائی کی ضروریات کا انتظام کرلیا ہے اور سردیوں میں بڑھتی کھپت کی منصوبہ بندی جاری ہے، تاہم خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے طویل مدتی معاشی صورتِ حال کے لیے تشویش ناک ہیں۔
انہوں نے 17 اکتوبر کو بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان نے امریکا اور اسرائیل کی ایران جنگ سے پیدا ہونے والے ابتدائی توانائی بحران کا سامنا ایندھن کی قلت یا پیٹرول پمپوں پر قطاروں کے بغیر کیا ہے۔
اورنگزیب نے کہا کہ انتہائی ضرورت کے سوا ایل این جی کے اسپاٹ کارگو نہیں خریدے جائیں گے۔ اس سے مراد موجودہ معاہدوں کے بجائے فوری ضرورت کے لیے اس وقت کی بازاری قیمت پر خریدی جانے والی کھیپیں ہیں، جو زیادہ مہنگی پڑ سکتی ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے لڑائی کم ہونے کے بعد بھی معمول کی معاشی سرگرمیوں کی بحالی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
علاقائی جنگ سے تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جبکہ یمن میں دوبارہ لڑائی کے دوران حوثیوں نے سعودی توانائی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری مالیات پر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی آمدن اور اخراجات کے فرق کو کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان کاروباروں کے خلاف کارروائی پر توجہ دے رہی ہے جو صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتے۔ ان کے مطابق اس مد میں اربوں ڈالر کی رقم شامل ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے کی بھی گنجائش موجود ہے۔
اورنگزیب نے کہا کہ اصلاحات کو صنعت، لابنگ گروہوں اور موجودہ انتظام سے فائدہ اٹھانے والے حلقوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ سات ارب امریکی ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور 1.4 ارب ڈالر کی موسمیاتی و معاشی استحکام کی سہولت کے تحت کام کر رہا ہے۔
رواں ماہ دونوں پروگراموں کے جائزوں پر عملے کی سطح کے معاہدے سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی فراہمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔





