ڈھاکہ: بنگلہ دیش رواں سال رپورٹ ہونے والے مشتبہ کیسز کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی خسرے کی وبا سے نمٹ رہا ہے۔ اب تک 1147 اموات نے بچوں کی ویکسینیشن میں کمی اور کمزور خاندانوں تک صحت کی خدمات نہ پہنچنے کے سنگین نتائج نمایاں کیے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مارچ کے وسط میں وبا شروع ہونے سے نو اکتوبر تک دو لاکھ دو ہزار مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 22 ہزار کی لیبارٹری تصدیق ہوئی۔ رپورٹ ہونے والی اموات میں 94 فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر تھے۔
رائٹرز نے عالمی ادارۂ صحت کی دستاویزات اور ایک درجن سے زائد سائنس دانوں، طبی کارکنوں اور حکام سے گفتگو کی بنیاد پر بتایا کہ ویکسینیشن کے اعدادوشمار، ہنگامی تیاری اور والدین تک معلومات پہنچانے میں خامیاں موجود تھیں۔ بعض منصوبہ بندی کے اعدادوشمار میں لاکھوں بچے شامل ہی نہیں تھے۔
عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کے مطابق 2025 میں خسرے کی پہلی خوراک کی شرح کم ہوکر 90 فیصد، جبکہ دوسری خوراک کی شرح 86 فیصد رہ گئی۔ دونوں شرحیں وبا روکنے کے لیے درکار 95 فیصد سے کم تھیں۔
اداروں نے 2023 سے 2025 کے سرکاری اعدادوشمار پر بھی سوال اٹھائے۔ بعض ابتدائی ریکارڈ میں ویکسین پانے والوں کی تعداد ہدف آبادی کے 100 فیصد سے زیادہ دکھائی گئی، جو گنتی یا آبادی کے تخمینوں میں غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
شدید متاثرہ سلہٹ کے رہائشی امین میاں نے کہا کہ جولائی میں ان کے کم سن بیٹے ارمان حسین کی موت سے پہلے کوئی طبی کارکن ویکسین دینے ان کے دورافتادہ گاؤں نہیں پہنچا۔ خاندان نے علاج کے لیے اپنا رکشہ بھی فروخت کردیا۔ ارمان کی چار سالہ غیر ویکسین شدہ بہن بچ گئی۔
ایک اور والد، بڑھئی ہمایوں رشید، کی نو ماہ کی بیٹی لبیبہ اختر جون میں انتقال کرگئی۔ ہنگامی مہم میں ویکسین کی کم از کم عمر نو سے چھ ماہ کیے جانے کے بعد وہ اہل ہوچکی تھی، لیکن والد کے مطابق خاندان کو بتایا نہیں گیا۔
عالمی ادارۂ صحت کے ویکسین مشیر مارک جٹ نے اسے تمام ممالک کے لیے تنبیہ قرار دیا اور کہا کہ ویکسین کے ذریعے بچاؤ، وبا سے نمٹنے کی نسبت آسان، کم خرچ اور محفوظ ہے۔
حکومتی مشیرِ صحت ضیاالدین حیدر نے ستمبر میں کہا تھا کہ وبا ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ حکومت نے اکتوبر میں رائٹرز کے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا۔





