سنگاپور: مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں امن مذاکرات بحال ہونے کی امیدوں کے باعث جمعرات کی ابتدائی تجارت میں عالمی تیل کی قیمتیں گرگئیں، تاہم خطے میں جاری حملوں نے رسد متاثر ہونے کے خدشات برقرار رکھے۔
روئٹرز کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8.51 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.22 ڈالر، یعنی 1.1 فیصد کمی سے 114.10 ڈالر فی بیرل پر تھے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.33 ڈالر، یعنی 1.3 فیصد کمی سے 101.45 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
یہ ابتدائی تجارتی نرخ ہیں، دن کے اختتامی نرخ نہیں۔ بدھ کو برینٹ کی قیمت 1.3 فیصد اور امریکی خام تیل کی قیمت تین فیصد بڑھی تھی۔
مذاکرات سے متعلق امیدوں کو وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ سے تقویت ملی جس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط لکھ کر بات چیت بحال کرنے کی کوشش کی۔ اخبار نے امریکی حکام اور معاملے سے واقف افراد کا حوالہ دیا۔
نومورا سکیورٹیز کے ماہر معاشیات یوکی تاکاشیما نے روئٹرز کو بتایا کہ مذاکرات کی توقعات فروخت کا دباؤ بڑھا رہی ہیں، لیکن مزید فوجی کشیدگی کے خدشات قیمتوں میں بڑی کمی کو روک رہے ہیں۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ اس نے جمعرات کو مشرقی سعودی عرب کی طرف داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کردیا۔ یمنی حکومتی فورسز نے بدھ کو عدن ہوائی اڈے پر حملے کی بھی اطلاع دی۔
حوثیوں نے الگ سے یومیہ 550000 بیرل پیداواری صلاحیت رکھنے والی سعودی ریفائنری پر حملے کا دعویٰ کیا، جس کی سعودی حکام نے فوری تصدیق نہیں کی۔
سفارتی سطح پر بھی متضاد مؤقف سامنے آئے۔ مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار نے کہا کہ قطری ثالثوں نے معاہدے کا نیا مسودہ پیش کیا ہے، جبکہ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے تجاویز ناقابل قبول قرار دیں۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران سفارت کاری کو موقع دے رہا ہے۔
روس میں ریفائنریوں کی سرگرمی بحال ہونے کی توقعات نے بھی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔ جے پی مورگن کے مطابق گزشتہ ہفتے روسی ریفائنریوں میں خام تیل کی پروسیسنگ یومیہ 350000 بیرل اضافے سے 40 لاکھ بیرل ہوگئی۔
امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے کے اعداد کے مطابق 23 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 19 لاکھ بیرل کم ہوئے، جبکہ پیٹرول کے ذخائر 39 لاکھ بیرل بڑھ گئے۔





