اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کے نئے طریقہ کار سے مقامی آئل ریفائنریز کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اس فیصلے نے ریفائنری کے شعبے میں مجوزہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار منظور کیا تھا، جس کے تحت مقامی ریفائنریز کو پیٹرول کی اصل درآمدی لاگت اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان فرق ادا کرنا ہوگا۔
صنعتی اندازوں کے مطابق اس فیصلے سے مقامی ریفائنریز پر فی لیٹر تقریباً 49 روپے کا مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ حکومت کا مقصد پیٹرولیم لیوی میں کمی کے ذریعے صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت پیٹرول کی درآمدی قیمت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی متعلقہ درآمدی کھیپ کی اصل لاگت کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ تاہم ایکس ریفائنری قیمت کا تعین 7 مارچ 2026 کو ریکارڈ کیے گئے پریمیم، اضافی درآمدی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کی سطح کے مطابق کیا جائے گا۔
یہ نیا طریقہ کار ابتدائی طور پر 30 دن کے لیے نافذ کیا جائے گا۔
ریفائنریز کو کیا خدشات ہیں؟
آئل انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے نئے فارمولے کے باعث مقامی ریفائنریز کو پیٹرول کی فروخت اپنی اصل پیداواری لاگت سے کم قیمت پر کرنا پڑ سکتی ہے۔
صنعتی اندازوں کے مطابق فی لیٹر 49 روپے کے مالی فرق میں تقریباً 35 روپے نئے قیمتوں کے حساب سے جبکہ مزید 14 روپے کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق تبدیلیوں کے باعث شامل ہیں۔
ریفائنری حکام نے پالیسی میں تبدیلی سے قبل مشاورت نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومتی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سے کاروباری منصوبہ بندی اور طویل مدتی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری داؤ پر؟
پاکستان میں موجودہ آئل ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے تقریباً 6 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایندھن کے معیار کو بہتر بنانا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا اور یورو 5 معیار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنا ہے۔
ریفائنریز کو جدید بنانے سے پاکستان کو درآمدی پیٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں اور سپلائی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات محدود کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور طویل مدتی مالی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی پالیسیاں مستحکم رہیں تاکہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی لاگت پوری کر سکیں۔
اگر قیمتوں کے نئے طریقہ کار پر صنعت کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ان منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
حکومت کے سامنے ایک طرف پیٹرول صارفین کو فوری ریلیف دینے اور دوسری جانب مقامی ریفائنریز کو مالی طور پر مستحکم رکھنے کا چیلنج ہے۔
اگر اس پالیسی کے باعث ریفائنریز کی جدید کاری کے منصوبے متاثر ہوئے تو مستقبل میں پاکستان کا درآمدی ایندھن پر انحصار بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات ملک کی توانائی کی ضروریات اور معاشی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔





