کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے دوران نمایاں تیزی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔
اسٹاک ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق دوپہر ایک بج کر 40 منٹ تک 100 انڈیکس 2,753.12 پوائنٹس، یعنی 1.64 فیصد اضافے کے ساتھ 170,771.98 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
منگل کو انڈیکس 168,018.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بدھ کو کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا اور صبح 10 بج کر 4 منٹ پر انڈیکس 1,707.48 پوائنٹس اضافے سے 169,726.34 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ بعد ازاں مختلف شعبوں میں حصص کی خریداری بڑھنے سے انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار کی سطح عبور کر گیا۔
امریکی انتخابات کے نتائج کا مارکیٹ پر اثر
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔
اس انتخابی نتیجے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ واشنگٹن میں سیاسی توازن کی تبدیلی ایران کے ساتھ جاری جنگ اور امریکی خارجہ پالیسی پر کس حد تک اثرانداز ہو سکتی ہے۔
مارکیٹ میں یہ توقعات بھی پائی جا رہی ہیں کہ سفارتی کوششوں میں پیش رفت سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور کاروباری اعتماد پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی اور ایران سے متعلق آئندہ اقدامات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
بینکنگ، سیمنٹ اور توانائی کے شعبوں میں خریداری
بدھ کے روز مارکیٹ میں تیزی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ بینکنگ، سیمنٹ، کھاد، کیمیکل، ادویات سازی، آٹوموبائل، بجلی کی پیداوار، تیل و گیس اور ریفائنری کے شعبوں میں بھی حصص کی خریداری دیکھی گئی۔
اس سے قبل منگل کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان رہا تھا اور 100 انڈیکس 1,454.80 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 168,018.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق منگل کی تیزی کی بنیادی وجوہات میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی توقعات شامل تھیں۔
منگل کو حصص کے کاروباری حجم میں 16.67 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 51 کروڑ 73 لاکھ سے زائد حصص کا کاروبار ہوا۔
اسی دوران حصص کی مجموعی تجارتی مالیت بڑھ کر 20.7 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری مالیت تقریباً 18.4 کھرب روپے ریکارڈ کی گئی۔
عالمی تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ
پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے باوجود بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 104.42 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 96.59 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ ایران میں جاری جنگ، توانائی کی ممکنہ ترسیلی رکاوٹیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے تعلقات، سفارتی پیش رفت اور عالمی تیل کی قیمتیں سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج میں ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور ہونا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم کاروباری دن کے اختتام تک اس تیزی کے برقرار رہنے کا انحصار مارکیٹ میں خریداری کے رجحان پر ہوگا۔





