واشنگٹن: امریکی صنعت کاروں نے افرادی قوت کی کمی، ٹیکنالوجی کی گھٹتی لاگت اور مصنوعی ذہانت میں پیش رفت کے باعث 2025 کے دوران 38400 صنعتی روبوٹس نصب کیے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے مطابق نئی تنصیبات میں سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد امریکا جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری بڑی صنعتی روبوٹ مارکیٹ بن گیا۔ چین 354200 تنصیبات کے ساتھ بدستور پہلے نمبر پر رہا۔
صنعتی روبوٹ ایسی خودکار مشینیں ہوتی ہیں جنہیں ویلڈنگ، پرزوں کی جوڑائی، پیکنگ اور سامان منتقل کرنے جیسے مخصوص کاموں کے لیے پروگرام کیا جاتا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشینی بازو اور مخصوص آلات شامل ہوتے ہیں، نہ کہ انسانوں سے مشابہ روبوٹ۔
امریکی گاڑیوں کی صنعت نے سب سے زیادہ 13500 روبوٹس نصب کیے۔ خوراک اور مشروبات کے شعبے میں تنصیبات 30 فیصد بڑھ کر 2900 ہوگئیں، جبکہ گوداموں، ترسیل اور طبی شعبوں میں بھی استعمال بڑھا۔
بلومبرگ کے مطابق 2025 میں امریکی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 100000 سے زیادہ ملازمتیں بھی کم ہوئیں۔ تاہم دستیاب اعدادوشمار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تمام ملازمتیں روبوٹس کے باعث ختم ہوئیں، کیونکہ کارخانوں کو ہنرمند اور تکنیکی کارکنوں کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
امریکی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2026 میں مینوفیکچرنگ کی 580000 آسامیاں خالی تھیں۔ میک کنزی کا اندازہ ہے کہ کارخانوں کی پیداوار کو گزشتہ دہائی کی بلند ترین سطح تک پہنچانے کے لیے تقریباً 1.4 ملین اضافی کارکن درکار ہوں گے، اگر افرادی قوت پیداوار کے تناسب سے بڑھائی جائے۔
یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی کارخانے ایک طرف روبوٹس نصب کر رہے ہیں اور دوسری طرف کارکن بھی تلاش کر رہے ہیں۔ نئی مشینوں کے ساتھ ایسے افراد کی ضرورت بڑھ رہی ہے جو خودکار نظام چلا، برقرار اور مرمت کرسکیں۔





