اسلام آباد: وفاقی حکومت نے موسم سرما سے قبل ایل پی جی کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اس کی درآمد، قیمتوں کے تعین اور تقسیم سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل، 3 نومبر کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں نئی پالیسی کا اعلان کیا۔
اس پالیسی کے تحت چار سرکاری ادارے دوبارہ ایل پی جی کی درآمد شروع کریں گے، جبکہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی گیس کی تقسیم موجودہ کوٹہ سسٹم کے بجائے مسابقتی نیلامی کے ذریعے کی جائے گی۔
ان اداروں میں پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس ایل پی جی اور پارکو ایل پی جی شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں حکومتی اور کاروباری معاہدوں کے ذریعے عالمی منڈی سے ایل پی جی خریدیں گی۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 2 ہزار سے ڈھائی ہزار ٹن ایل پی جی پیدا ہوتی ہے، تاہم ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر بھی انحصار کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مغربی سرحدوں پر تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے باعث ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں یہ 700 سے 800 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
اس کے برعکس آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ قیمت تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر کی ہے۔
کم آمدنی والے گھرانوں کو سبسڈی دینے کا منصوبہ
علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کم آمدنی والے مستحق گھرانوں کو 300 سے 350 روپے فی کلو کے حساب سے ایل پی جی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سبسڈی کے لیے اہل صارفین کا تعین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معیار کے مطابق کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا، جس میں درآمدی قیمت سے منسلک ایل پی جی کی قیمت اور مقامی پیداوار کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کے درمیان فرق جمع کیا جائے گا۔
تاہم مجوزہ رعایتی قیمت بھی اوگرا کی موجودہ مقررہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے زیادہ ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق سرکاری کمپنیوں کو سعودی عرب اور عمان سے ایل پی جی کی فراہمی کی پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں اور درآمدی اخراجات کو شامل کرنے کے بعد درآمد شدہ ایل پی جی کی قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو تک ہو سکتی ہے۔
ایل پی جی کا کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ
حکومت نے ایل پی جی کی تقسیم کے موجودہ صوابدیدی کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے اور مقامی پیداوار کی نیلامی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے نظام کے تحت مقامی کمپنیاں پانچ سے دس ٹن کے حصوں میں ایل پی جی نیلام کریں گی۔
نیلامی کی نگرانی اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کریں گے، جبکہ نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔
سرکاری درآمدی کمپنیاں ہر ماہ ایل پی جی کی قیمتوں کی تفصیلات بھی شائع کریں گی، جن میں سعودی آرامکو کی مقرر کردہ قیمت، اضافی درآمدی اخراجات، مال برداری اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہوں گے۔
نئی پالیسی کے تحت اوگرا مقامی اور درآمدی ایل پی جی کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کرنا بند کر دے گا، تاہم اس کی نگرانی اور ضابطہ کاری کی ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔
حکومت نے مسابقتی کمیشن پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کو ذخیرہ اندوزی، ملی بھگت سے قیمتیں مقرر کرنے اور غیر مسابقتی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔
دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے لیے مقامی سطح پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کا دس فیصد حصہ مختص رکھا جائے گا۔
موسم سرما سے قبل گیس کی فراہمی بڑھانے کی کوشش
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ایل پی جی کی درآمد اور تقسیم کا نیا نظام موسم سرما سے قبل فعال ہونے کی توقع ہے، جب گھریلو استعمال، خصوصاً کھانا پکانے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موسم سرما میں قدرتی گیس کی یومیہ طلب میں 40 سے 50 کروڑ مکعب فٹ اضافے کا امکان ہے، جسے پورا کرنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
نئی پالیسی ایسے وقت متعارف کرائی گئی ہے جب عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق سعودی آرامکو کی ایل پی جی کی معاہداتی قیمت مارچ میں 540 ڈالر فی ٹن تھی، جو بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن ہو گئی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 45 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 68 پیسے فی لیٹر کمی بھی کی ہے۔
4 نومبر سے پیٹرول کی نئی قیمت 369 روپے 6 پیسے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
نئی ایل پی جی پالیسی کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اضافی درآمدات کتنی جلد مقامی منڈی تک پہنچتی ہیں اور نیلامی کا نظام صارفین کے لیے گیس کی دستیابی اور قیمتوں کو کس حد تک بہتر بناتا ہے۔





