اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بجلی کی چوری، غیر قانونی کنکشنز اور نجی سطح پر بجلی کی غیر مجاز فروخت میں متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کے ممکنہ کردار کی مکمل جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعہ کو بجلی کا کرنٹ لگنے کے ایک مقدمے میں ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران یہ آبزرویشن دی۔
جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ چھ صفحات پر مشتمل حکم نامے میں عدالت نے بجلی کی غیر قانونی فراہمی کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ متعلقہ اداروں اور ان کے اہلکاروں کے علم میں آئے بغیر اس نوعیت کا نظام کیسے چلایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ بجلی کی چوری، غیر قانونی فروخت اور منظور شدہ نظام سے ہٹ کر نجی طور پر بجلی فراہم کرنے میں ملوث افراد کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے کی نقل چیئرمین واپڈا کو معلومات کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔
لاڑکانہ میں کرنٹ لگنے کے واقعے سے مقدمے کا آغاز
یہ معاملہ مارچ 2024 میں سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے، جہاں بجلی کی ایک پی وی سی تار ٹوٹ کر ہائی ٹینشن لائن سے ٹکرا گئی تھی، جس کے نتیجے میں ایک شخص کو بجلی کا کرنٹ لگا۔
متاثرہ شخص کے بھائی علی اصغر کھوکھر نے تھانہ رحمت پور میں انور علی کوری اور بجلی کی فراہمی سے متعلق بعض اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔
درخواست گزار کے مطابق ایک ٹھیکیدار مبینہ طور پر متعلقہ اہلکاروں کی ملی بھگت سے دکانوں کو غیر قانونی کنکشن کے ذریعے بجلی فراہم کر رہا تھا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ دکانوں تک بجلی پہنچانے کے لیے ایک خصوصی لائن بچھائی گئی تھی اور صارفین سے رقم وصول کی جاتی تھی، تاہم انہیں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کی جانب سے باقاعدہ بل جاری نہیں کیے جاتے تھے۔
درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے ملزم کو ضمانت دیتے وقت تفتیشی افسر کے جمع کردہ شواہد اور مقدمے کے اہم حقائق کا مناسب جائزہ نہیں لیا۔
سپریم کورٹ کا ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے سے انکار
سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ بینچ نے 20 اکتوبر 2025 کو ملزم کی ضمانت برقرار رکھی تھی۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مقدمہ درج ہونے میں نو ماہ کی تاخیر اور ملزم کے خلاف الزامات میں مزید تفتیش کی ضرورت کو اہم قرار دیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق تفتیشی افسر نے یہ بھی بتایا تھا کہ ملزم کے واپڈا اہلکاروں سے رابطے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل جاری ہے، اس لیے وہ ملزم کی ضمانت منسوخ کرانے کی درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے۔
اس بیان کے بعد عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کی اور درخواست نمٹا دی۔
ملزمان کی ذمہ داری کا تعین ٹرائل میں ہوگا
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسی ملزم کو ضمانت ملنا یا اس کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست مسترد ہونا اس کے بے گناہ یا قصوروار ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔
عدالت کے مطابق مقدمے میں نامزد افراد کے کردار اور ان کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین شواہد کی جانچ اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
بینچ نے ضمانت دینے اور پہلے سے منظور شدہ ضمانت منسوخ کرنے کے قانونی اصولوں میں فرق بھی واضح کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت کی منسوخی کے لیے ٹھوس قانونی وجوہات ضروری ہیں، جن میں ضمانت کا غیر قانونی طور پر منظور ہونا، رعایت کا ناجائز استعمال، گواہوں پر اثرانداز ہونے یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے جیسے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کی آبزرویشنز نے بجلی کی غیر قانونی تقسیم اور متعلقہ اداروں میں جوابدہی کے معاملے کو نمایاں کیا ہے، تاہم عدالت نے مقدمے میں نامزد کسی شخص کو قصوروار قرار نہیں دیا۔
عدالتی حکم کی نقل چیئرمین واپڈا کو بھجوانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ دستیاب رپورٹس کے مطابق عدالت نے کسی اہلکار کے خلاف الگ فوجداری تحقیقات یا سزا کا حکم نہیں دیا۔




