لاہور: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رفعت علی گوندل نے منگل کو آذربائیجانی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ملزم احمد تنویر کی درخواست ضمانت پر سماعت سے معذرت کرتے ہوئے معاملہ مزید کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ کو بھجوا دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب احمد تنویر کی عبوری ضمانت 27 اکتوبر کو ختم ہونے والی تھی۔ ان کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو ایک علیحدہ مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔
وکیل صفائی کے مطابق احمد تنویر دوسرے مقدمے میں شناخت پریڈ کے لیے 14 روزہ حراست میں ہیں۔ صفدر شاہین پیرزادہ نے عدالت سے ایک سماعت کے لیے ملزم کو حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی، تاہم جج گوندل نے درخواست ضمانت پر کارروائی آگے بڑھانے سے معذرت کر لی۔
جج نے وکیل صفائی کو بتایا کہ انہوں نے معاملے کا ریفرنس تیار کرکے مزید کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ کو ارسال کر دیا ہے۔ عدالتی کارروائی سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات میں جج کی جانب سے سماعت سے علیحدگی کی کوئی مخصوص وجہ بیان نہیں کی گئی۔
معاملہ طے کرنے کی کوشش اور عدالتی رشوت ستانی کے الزامات
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے زیادتی کے ایک مقدمے میں عدالتی کارروائی پر مبینہ طور پر اثرانداز ہونے کی کوششوں سے متعلق بیانات کے بعد اس معاملے نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔
گزشتہ ہفتے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ زیادتی کے ایک حالیہ مقدمے میں ملزم کے اہل خانہ نے متاثرہ خاتون کو اپنے الزامات واپس لینے کے عوض بھاری رقم کی پیشکش کی تھی۔
ان کے مطابق یہ مبینہ پیشکش اس کے باوجود کی گئی کہ متاثرہ خاتون ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروا چکی تھیں۔ اس دفعہ کے تحت تفتیش کے دوران مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ان الزامات کا بھی ذکر کیا کہ ملزم کو ضمانت دینے والے جج نے مبینہ طور پر رشوت وصول کی تھی۔
تاہم مریم نواز نے نہ تو متعلقہ مقدمے کی نشاندہی کی اور نہ ہی کسی جج کا نام لیا۔ ان کے بیانات اور آذربائیجانی خاتون کے مقدمے کے درمیان کسی تعلق کی تاحال عوامی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
رشوت ستانی اور معاملہ طے کرنے کے لیے رقم کی مبینہ پیشکش سے متعلق الزامات بھی ابھی ثابت نہیں ہوئے۔
پانچ ملزمان پولیس کی حراست میں
آذربائیجانی خاتون کی شکایت پر لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے تین مردوں پر اجتماعی زیادتی کا الزام عائد کیا۔
خاتون نے دو خواتین پر بھی مبینہ جرم میں معاونت کا الزام لگایا۔
پولیس نے تحقیقات کے دوران پانچوں ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
یہ مقدمہ ایک غیر ملکی خاتون کے خلاف مبینہ جنسی تشدد سے متعلق ہے، جس میں فوجداری تحقیقات کے ساتھ ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔
پاکستان کے فوجداری نظام انصاف کے تحت کسی بھی ملزم کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
ضمانت کی کارروائی میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کو حراست سے باہر رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس کارروائی سے ملزم کے مجرم یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتا۔
لاہور ہائی کورٹ مزید کارروائی کا تعین کرے گی
جج کی جانب سے درخواست ضمانت کی سماعت سے علیحدگی کے بعد اب اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کی مزید ہدایات درکار ہوں گی۔
ہائی کورٹ یہ طے کر سکتی ہے کہ درخواست پر آئندہ کارروائی کس طرح آگے بڑھائی جائے، جس میں مقدمہ کسی دوسرے جوڈیشل افسر کو منتقل کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
معاملہ ہائی کورٹ کو بھجوانے سے نہ تو درخواست ضمانت کا فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی ملزمان کے خلاف عائد فوجداری الزامات کے تعین پر کوئی اثر پڑا ہے۔
آئندہ عدالتی کارروائی لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہوگی، جبکہ پانچوں ملزمان سے متعلق پولیس کی تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری رہے گی۔




