کراچی: صحافی اقرار الحسن کی درخواست ضمانت پر فیصلہ جمعرات 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ایسٹ نے بدھ کو سوشل میڈیا مواد سے متعلق مقدمے میں دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اقرار الحسن نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا۔
مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات نو، 10، 20، 24 اور 26 اے شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعی رپورٹ، یعنی ایف آئی آر، میں الزام ہے کہ انہوں نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر جھوٹا اور ہتک آمیز مواد پھیلا کر عوام کو ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔
یہ مقدمے میں عائد الزامات ہیں، جن پر جرم ثابت ہونے کا عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔
بدھ کی سماعت میں وکیل صفائی نے متعلقہ دفعات کے اطلاق کو چیلنج کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن نے نہ دہشت گردی کی ترویج کی اور نہ کسی کالعدم تنظیم کی تعریف کی، بلکہ ان کی گفتگو خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق تھی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے انہیں 13 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا، جہاں عدالت نے تفتیش کے لیے چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔
رپورٹ کے مطابق جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست 16 اکتوبر کو مسترد ہوئی، جبکہ اگلے روز ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کردی گئی۔
ان کی اہلیہ فرح اقرار نے اس سے قبل ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا تھا کہ این سی سی آئی اے کے اہلکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے نامعلوم افراد انہیں لاہور کی رہائش گاہ سے لے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان افراد نے زبردستی داخل ہونے کی دھمکی دی اور بعدازاں گھر میں داخل ہوکر صحافی کو ساتھ لے گئے۔
جمعرات کا فیصلہ درخواست ضمانت سے متعلق ہوگا؛ مقدمے کے بنیادی الزامات کا حتمی تعین اس سے الگ معاملہ ہے۔





