نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے پہلے تہذیبی مکالمہ فورم میں شرکت کی دعوت دی ہے، جو 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود یہ اجلاس اعلیٰ سطح پر رابطوں کا ایک غیر معمولی موقع فراہم کر سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی بھی مدعو کیے گئے حکام میں شامل ہیں۔ تاہم اسلام آباد نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وفاقی وزیر اجلاس میں شرکت کریں گے یا پاکستان کی نمائندگی کون کرے گا۔
تین روزہ فورم میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک، مبصر ممالک اور مکالماتی شراکت داروں سمیت 25 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نئی دہلی کے تاریخی قلعے پرانا قلعہ میں تقریب کا افتتاح کیے جانے کا امکان ہے۔
بھارت کی وزارتِ ثقافت اور وزارتِ خارجہ کے مشترکہ اہتمام سے منعقد ہونے والے اس فورم میں ثقافتی ورثے، تاریخی روابط، روایتی علوم اور تعلیم و فنون کے شعبوں میں تعاون پر توجہ دی جائے گی۔
پاکستان کو دعوت کیوں دی گئی؟
پاکستان کو دعوت دینا شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت بھارت کی وسیع تر کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جس کے مطابق میزبان ملک دیگر رکن ممالک کو شرکت کی دعوت دیتا ہے۔
بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ اس دعوت کو دوطرفہ تعلقات میں کسی تبدیلی کے اشارے کے بجائے کثیرالجہتی تعاون کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے 10 رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔
تہذیبی مکالمہ فورم کے انعقاد کی تجویز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ستمبر 2025 میں چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران پیش کی تھی۔
بھارت نے 20 اکتوبر 2026 کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقدہ ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کے دوران اس فورم کی میزبانی کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔
کشیدگی کے باوجود سفارتی روابط
پاکستان کو دی گئی یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے بعد دوطرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔
یہ تصادم بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس کے بعد بھارت نے پاکستان میں مختلف اہداف پر فوجی حملے کیے۔ اسلام آباد نے پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے بھارتی الزامات مسترد کر دیے تھے۔
اختلافات کے باوجود دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اکتوبر 2024 میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔ یہ نو برس بعد کسی بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔
حال ہی میں ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے بھارت کے قومی رابطہ کار آلوک ڈمری نے تنظیم میں پاکستان کے آئندہ قائدانہ کردار سے متعلق مشاورت کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔
اگر اورنگزیب خان کھچی نومبر کے فورم میں شرکت کرتے ہیں تو وہ مئی 2023 کے بعد بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وفاقی وزیر ہوں گے۔ اس سے قبل اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔
مجوزہ اجلاس اس بات کی مثال ہے کہ کثیرالجہتی علاقائی ادارے ایسے ممالک کے درمیان بھی رابطے برقرار رکھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں جن کے دوطرفہ تعلقات محدود ہوں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سلامتی سے متعلق اجلاسوں کے برعکس تہذیبی مکالمہ فورم میں ثقافتی تبادلوں اور مشترکہ تاریخی روایات پر توجہ دی جائے گی۔ اس سے شریک ممالک کو متنازع سیاسی معاملات سے ہٹ کر مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت کا موقع ملے گا۔
تاہم پاکستان کی شرکت کی تصدیق ہونے کی صورت میں بھی اسے لازمی طور پر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کی جانب پیش رفت نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس اجلاس کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان اہم سیاسی اختلافات برقرار رہنے کے باوجود ایک علاقائی تنظیم کے ذریعے سفارتی روابط جاری رہیں گے۔





