مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے سابق انجینئر عبدالرحمان الفوزان پر امریکی وفاقی استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے کمپنی کے دفاتر میں خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائسز نصب کیں تاکہ انتظامی عہدیداروں اور دیگر ملازمین کی نجی گفتگو ریکارڈ کی جاسکے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 35 سالہ سعودی شہری عبدالرحمان الفوزان کو 9 اکتوبر 2026 کو گرفتار کیا گیا۔ یہ معاملہ اوپن اے آئی کے سان فرانسسکو دفتر میں قائم ایک ایگزیکٹو کانفرنس روم سے مبینہ طور پر خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس ملنے کے بعد سامنے آیا۔ الفوزان کو زبانی گفتگو کی غیر قانونی ریکارڈنگ یا اس کی کوشش سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ تاہم، ان کے خلاف الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
عبدالرحمان الفوزان کون ہیں؟
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عبدالرحمان الفوزان نے جولائی 2025 میں اوپن اے آئی میں بطور انجینئر کام شروع کیا تھا۔ ان کے پیشہ ورانہ تجربے میں میٹا اور مائیکروسافٹ میں کام کرنا بھی شامل تھا۔ ان کے لنکڈ اِن پروفائل پر میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے تعلیمی وابستگی کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔
اوپن اے آئی میں ان کی ملازمت انہیں مصنوعی ذہانت کی ایک بڑی کمپنی کا حصہ بناتی تھی، جہاں خفیہ اجلاسوں میں نئی ٹیکنالوجی، مصنوعات کی تیاری، تجارتی شراکت داریوں اور کاروباری حکمت عملی سے متعلق امور زیر بحث آسکتے ہیں۔ تاہم، کمپنی میں ان کی مخصوص ذمہ داریوں اور حساس معلومات تک رسائی کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز کا معاملہ کیسے سامنے آیا؟
فوجداری شکایت کے مطابق اوپن اے آئی کے ملازمین کو 30 ستمبر 2026 کو کمپنی کے ایک ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ٹیلی ویژن کے پیچھے چھپائی گئی آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس ملی۔ تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ یہ ڈیوائس تقریباً دو روز قبل نصب کی گئی تھی اور اسے اس انداز میں چھپایا گیا تھا کہ عام طور پر اس پر توجہ نہ جائے۔
استغاثہ کے مطابق اس کمرے میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران کمپنی کی ملکیتی ٹیکنالوجی، مستقبل کی مصنوعات اور اہم کاروباری فیصلوں سمیت حساس معاملات پر گفتگو کی جاتی تھی۔
تفتیش کے دوران کمپنی کے اندرونی نظام اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ الفوزان نے کمپنی کے ایک اندرونی پروڈکٹیوٹی ٹول کے ذریعے دفاتر کے مقامات، میٹنگ رومز کی بکنگ اور کمپنی کی قیادت سمیت بیرونی شراکت داروں کے اجلاسوں سے متعلق معلومات حاصل کیں۔
تفتیش کاروں نے مبینہ طور پر ان کے شریکِ حیات کے اکاؤنٹ سے منسلک چیٹ بوٹ پر بھیجے گئے سوالات کا جائزہ لیا۔ استغاثہ کے مطابق ان سوالات میں آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس بنانے، چھپانے، جانچنے اور اسے دور سے چلانے کے طریقوں سے متعلق استفسارات شامل تھے۔ یہ ڈیجیٹل ریکارڈ مقدمے میں پیش کیے جانے والے شواہد کا حصہ بن سکتے ہیں، تاہم ان کی قانونی اہمیت کا تعین عدالتی کارروائی میں ہوگا۔
فوجداری شکایت میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ 5 اکتوبر کو سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں الفوزان کو اس ٹیلی ویژن کے پیچھے دیکھتے ہوئے دیکھا گیا جہاں پہلی ڈیوائس مبینہ طور پر نصب کی گئی تھی۔ بعد ازاں اوپن اے آئی کے سیکیورٹی عملے کو ایک اور ریکارڈنگ ڈیوائس مبینہ طور پر ان کے زیر استعمال بیگ سے ملی۔
اوپن اے آئی کا مؤقف کیا ہے؟
اوپن اے آئی نے الفوزان کی ملازمت ختم کردی اور معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو بھیج دیا۔ کمپنی کے مطابق اس نے واقعے کی تحقیقات اور ریکارڈنگ ڈیوائس کے ماخذ کی شناخت میں مدد کے لیے اپنے داخلی مصنوعی ذہانت کے نظام بھی استعمال کیے۔
کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اس کی تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ الفوزان نے غیر مجاز طور پر ماڈل ویٹس، سورس کوڈ یا صارفین کا ڈیٹا حاصل کیا یا باہر منتقل کیا۔
یہ فرق اہم ہے کیونکہ موجودہ الزامات کا تعلق خفیہ آڈیو ریکارڈنگ سے ہے۔ دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ کمپنی کی ملکیتی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی یا صارفین کا ڈیٹا بھی چوری کیا گیا۔
عبدالرحمان الفوزان کو کن سزاؤں کا سامنا ہوسکتا ہے؟
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس مقدمے میں زبانی گفتگو کو غیر قانونی طور پر ریکارڈ کرنے یا اس کی کوشش سے متعلق وفاقی قانون کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید، 250,000 امریکی ڈالر جرمانے اور تین سال تک زیر نگرانی رہنے کی سزا ہوسکتی ہے۔
تاہم، یہ قانون کے تحت ممکنہ زیادہ سے زیادہ سزائیں ہیں، نہ کہ مقدمے کے متوقع نتیجے کی پیش گوئی۔ استغاثہ کو عدالت میں الزامات ثابت کرنا ہوں گے اور الفوزان کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک ان کا جرم ثابت نہ ہوجائے۔
یہ معاملہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیوں میں داخلی سیکیورٹی اور خفیہ اجلاسوں کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ تاہم، عبدالرحمان الفوزان کے خلاف مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔





