کھٹمنڈو: مسلسل بارش کے باعث نیپال کے دارالحکومت میں دریائے باگمتی کناروں سے باہر آگیا، جبکہ ہفتے کے اختتام پر تودے گرنے سے کئی اہم شاہراہیں بند اور طویل فاصلے کی گاڑیاں راستوں میں پھنس گئیں۔
36 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بارش کے بعد دریا کا پانی بعض مقامات پر کنارے عبور کرکے باگمتی راہداری کی سڑکوں پر پھیل گیا۔ حکام نے دریا کے کنارے اور دیگر نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو مزید سیلاب کے خطرے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی۔
اتوار کو مالیکھو سے مگلن کے درمیان پرتھوی ہائی وے 11 مقامات پر تودے گرنے کے باعث بند رہی۔ یہ شاہراہ کھٹمنڈو کو مغربی نیپال اور سیاحتی شہر پوکھرا سے ملانے والے اہم راستوں میں شامل ہے۔
کاورے میں چارسایابیسی اور گمدی بیسی کے مقامات پر تودے گرنے سے بی پی ہائی وے مکمل بند ہوگئی۔ للت پور میں تاکورچھے اور پانگدردول کے قریب کانتی لوک پتھ پر بھی ٹریفک معطل رہی۔
نارائن گڑھ سے مگلن جانے والی سڑک کو ملبہ ہٹانے کے بعد اتوار کو دوبارہ کھول دیا گیا، تاہم حکام نے خبردار کیا کہ مسلسل بارش سے مزید تودے گر سکتے ہیں۔
نیپال کی قدرتی آفات سے نمٹنے والی اتھارٹی کے مطابق 24 ستمبر سے سیلاب، تودے گرنے اور شدید بارش کے واقعات میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اتوار تک پالپا، باگلنگ اور میاگدی اضلاع میں سات افراد لاپتا تھے۔
بند ہونے والی شاہراہیں کھٹمنڈو وادی کے لیے مسافروں اور ضروری سامان کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔ پرتھوی اور بی پی ہائی ویز پر رکاوٹوں سے زرعی پیداوار کی فراہمی متاثر ہوئی اور دارالحکومت میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور طویل سفر شروع کرنے سے پہلے سڑکوں کی تازہ سرکاری صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔





