انطالیہ: اگلی بڑی عالمی موسمیاتی کانفرنس ایک ایسے سوال کا سامنا کرے گی جس سے اب بچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: تین دہائیوں کے وعدوں کے بعد آخر کتنے موسمیاتی اقدامات حقیقت میں زمین پر نظر آ رہے ہیں؟
COP31 ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر تک منعقد ہوگی۔ اس اجلاس میں توقع ہے کہ ممالک پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد پر توجہ دیں گے، بجائے اس کے کہ صرف نئے وعدوں کا اعلان کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی سیکریٹریٹ نے کانفرنس کا ابتدائی ایجنڈا بھی جاری کردیا ہے۔
یہ تبدیلی سوچ سمجھ کر کی گئی ہے۔ ترکیہ کے COP31 کے نامزد صدر مرات کورم نے اجلاس کو "عملدرآمد کی COP" قرار دیا ہے۔ توانائی کی منتقلی، موسمیاتی خطرات سے محفوظ شہر اور بنیادی ڈھانچہ، پائیدار زراعت، موسمیاتی مالی معاونت اور کمزور خطوں اور ماحولیاتی نظاموں کا تحفظ اس کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
آسٹریلیا ایک غیر معمولی انتظام کے تحت مذاکرات کی قیادت کرے گا، جو اس تنازع کے بعد طے پایا تھا کہ 2026 کی کانفرنس کی میزبانی کون کرے گا۔
یہ انتظام خود COP31 سے جڑی سیاسی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ترکیہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا اور اس کے ماحولیات کے وزیر COP کے صدر ہوں گے، جبکہ آسٹریلیا کے وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کرس بوون مذاکرات کے صدر ہوں گے۔ یہ سمجھوتا COP30 کے دوران طے پایا، جب آسٹریلیا اور ترکیہ 2026 کے اجلاس کی میزبانی کے لیے مدمقابل تھے۔
لیکن سب سے بڑے اختلافات اس بات پر نہیں ہوں گے کہ صدر کی نشست پر کون بیٹھتا ہے۔
اصل تنازع پیسے، عملدرآمد اور موسمیاتی نقصان کی قیمت کون ادا کرے گا کے گرد ہوگا۔
ترقی پذیر ممالک بارہا مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ موسمیاتی اقدامات ایسے وعدوں پر منحصر نہیں ہونے چاہئیں جن کے لیے مالی وسائل فراہم نہ کیے جائیں۔ COP30 میں پاکستان نے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے لیے تیز رفتار، قابل اعتماد اور گرانٹ کی شکل میں موسمیاتی مالی معاونت کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ بار بار آنے والی قدرتی آفات قرضوں کے دباؤ میں اضافہ اور ترقی کو متاثر کر رہی ہیں۔





